غزہ میں شہریوں کو ’اجتماعی سزا‘ دی جا رہی ہے: غزہ میں انسانی کارکن حذیفہ یزجی

انسانی حقوق کی کارکن حذیفہ یزجی نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام کو بتایا کہ غزہ میں شہریوں کو ’اجتماعی سزا‘ دی جا رہی ہے۔حذیفہ، جو ناروے کی پناہ گزین کونسل کے غزہ کے علاقے کے مینیجر ہیں، ان کا کہنا تھاکہ ’میرے لیے کسی بھی طرح سے دونوں طرف کے شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں۔ غزہ میں یہ جوابی کارروائی۔۔۔ میرے خیال میں، یہ ایک اجتماعی سزا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’میں اپنی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی ہوں اور لوگ صرف غزہ کی گلیوں میں دوڑ رہے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کہاں جانا ہے۔ کوئی امید نہیں ہے۔‘اگرچہ غزہ کے رہائشیوں کو گذشتہ 14 سالوں میں حملوں کے کئی ادوار کا سامنا کرنا پڑا ہے ، لیکن حذیفہ کا کہنا ہے کہ وہ اس پیمانے پر کبھی نہیں ہوئے ہیں۔’صورتحال بہت خراب ہے، یہ الفاظ سے بھی بالاتر ہے۔ غزہ میں اس وقت کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔ ‘

 

#غزة پر اسرائیلی بمباری کی وجہ سے اپنے خاندان سے محروم ہونے والی فلسطینی خواتین کے لیے دردناک لمحات

غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں نے پورے محلے کو لپیٹ میں لے لیا
غزہ پر مسلسل چوتھے روز اپنے شدید فضائی حملوں کے دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی بندرگاہ اور مصر کے ساتھ سرحد کی پٹی پر واقع رفح کراسنگ کو نشانہ بنایا۔

غزہ میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ بیس برسوں میں ہونے والی بدترین بمباری ہے۔ حملوں کے اثرات بیان کرتے ہوئے، ہمارے نمائندے نے کہا کہ پورے محلے زمین بوس کر دیے گئے تھے۔بی بی سی کے ساتھ ایک کال میں غزہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نجوا نے ان حملوں سے ہونے والے خوف کے احساسات کو بیان کیا۔

’یہ بالکل جہنم ہے۔ نیند نہیں آتی۔ شام کے وقت بمباری زیادہ تھی۔ بجلی نہیں تھی، اس لیے آپ نہیں جان سکتے کہ کیا ہو رہا ہے، وہ کہاں ہے، کیا وہ قریب ہے۔ یہ ایک مکمل ڈراؤنا خواب ہے۔‘حماس اسرائیل پر راکٹ برسانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اپنے تازہ حملوں میں، اس نے ملک کے جنوب میں ساحلی شہر عشکلان کو نشانہ بنایا۔

شہر کے ایک رہائشی سیگل نے بی بی سی کو بتایا کہ سائرن نو بار بجے۔انھوں نے مزید کہا، ’پانچ بجے (مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام) سے ہم نے ہر بیس منٹ، یا آدھے گھنٹے یا اس طرح کی کوئی چیز سنی، پھر ہم پناہ گاہوں کی طرف بھاگے۔ اور آج رات میں اس پناہ گاہ میں سونے جاؤں گا جہاں میری بیٹی پہلے دن سے سو رہی ہے، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ حماس وہی کرے گا جس کی اس نے دھمکی دی تھی۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading