اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی علاقوں پر جاری بمباری کی وجہ سے غزہ میں دو لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں، یاد رہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے 24 گھنٹوں میں غزہ میں 450 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ طوفان الاقصیٰ آپریشن کے پانچویں روز اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 جبکہ فلسطین میں 900 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
خلاصہ
- حماس کے ‘طوفان الاقصیٰ آپریشن’ کے آغاز اور اسرائیل کے جوابی حملوں میں اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ چکی ہے جبکہ غزہ میں 900 سے زائد اموات ہوئی ہیں
- اسرائیل کے جنوبی شہر اشکلون کے رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ سے مزید عسکریت پسندوں کی آمد کی اطلاعات کے بعد محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں
- امریکی صدر جو بائیڈن نے حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملے کو ’شیطانی حملہ‘ قرار دیا ہے
- اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کی وجہ سے 180,000 سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہوئے ہیں
- ایک اسرائیلی گاؤں میں قتل عام کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جہاں منگل کی صبح تک لڑائی جاری رہی۔
- عالمی ادارہ صحت نے غزہ کے لیے محفوظ راہداری کھولنے کا مطالبہ کیا ہے
- حماس کی جانب سے اسرائیل پر غیر معمولی حملے کے تقریباً چار روز بعد بھی اسرائیلی فوج نے غزہ پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں حماس کے دو اعلیٰ عہدیدار ہلاک ہو گئے ہیں
- اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان کے ساتھ اس کی سرحد پر فائرنگ کا ایک اور تبادلہ ہوا ہے اور شام کی جانب سے گولے داغے جانے کے بعد اس نے بھی بھرپور جواب دیا ہے
غزہ اسرائیل تنازع: گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کیا کیا ہوا؟
اسرائیل کے غزہ میں جوابی حملے رات بھر جاری رہے ہیں گذشتہ چند گھنٹوں میں وہاں کیا صورتحال رہی اس کا مختصر خلاصہ:
اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں لڑاکا طیاروں نے غزہ کے علاقے الفرقان میں 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وہ ہاٹ سپاٹ ہے جہاں سے حماس اپنے حملے کرتی ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران علاقے میں یہ تیسرا جوابی حملہ ہے۔
تازہ کشدگی میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2100 تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے جبکہ غزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ 900 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
غزہ اور اسرائیل دونوں میں زندہ بچ جانے والوں نے وہاں ہونے والی تباہی کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے فریقین میں دہائیوں سے جاری تنازع میں کبھی ایسی صورتحالکا تجربہ نہیں کیا۔ اسرائیل میں لوگوں نے حماس کے حملے کو ’شہریوں کا قتل عام‘ قرار دیا ہے۔ غزہ میں ایک امدادی کارکن نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام کو بتایا کہ لوگوں کے جانے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے حماس کی جانب سے اسرائیل پر بلا جواز حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’شیطانی فعل‘ قرار دیا ہے۔ امریکہ اسرائیل کے لیے فوجی امداد میں اضافہ کر رہا ہے، امریکی اسلحہ لے کر پہلا طیارہ منگل کی شام جنوبی اسرائیل پہنچ گی۔
یورپی یونین کے نمائندہ برائے خارجہ امور جوزف بوریل نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کا ردعمل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے لیکن یہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے مطابق ہونا چاہیے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے شہریوں کے لیے ’محفوظ راستہ‘ حاصل کرنے کی کوشش کے بارے میں اسرائیل اور مصر کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون کا کہنا ہے کہ فریقین ’اس سوال پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں‘ لیکن انھوں نے جس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں۔