سنیچر سے شروع ہونے والے ‘طوفان الاقصیٰ آپریشن’ کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطین میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1600 ہو گئی ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی بازیابی کے لیے ہر حد تک جائیں گے تاہم حماس نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے بدلے میں یرغمالیوں کو قتل کیا جا سکتا ہے۔
- اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل حماس کے خلاف بھرپور قوت کا استعمال کرے گا اور یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے ہر حد تک جائے گا.
- اسرائیل پر حماس کے حملے کے نتیجے میں اب تک 900 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں
- اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر بمباری کے نتیجے میں اب تک 690 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں
- حماس کی جانب سے درجنوں اسرائیلی شہریوں کو اغوا کیا گیا ہے جن کے اہلخانہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
- حماس کی جانب سے اسرائیلی فضائی بمباری کے ردعمل میں اغوا کیے جانے والے اسرائیلی افراد کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی گئی ہے
- اسرائیلی وزیر دفاع نے غزہ کی پٹی کے مکمل محاصرے کا حکم دیا ہے اور فلسطینی عوام کے لیے خوراک، ایندھن، بجلی اور پانی کی فراہمی بند کر دی گئی ہے
اسرائیلی فضائیہ کا حماس کے کمانڈر کے گھر سمیت 200 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
Copyright: Getty Imagesاسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ پر کارروائی کرتے ہوئے راتوں رات 200 اہداف کو نشانہ بنایا ہے
اسرائیلی فضائیہ نے ابھی ایک تازہ بیان جاری کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے غزہ میں حماس اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے 200 ٹھکانوں کو راتوں رات فضائی حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اسرائیلی فضائیہ نے کہا کہ درجنوں لڑاکا طیاروں نے رمل اور خان یونس کے علاقوں پر حملے کیے اور اہداف کو تباہ کیا جس میں کمانڈنٹ اور کنٹرول سینٹرز، ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کے ڈپو جو ان کے بقول ایک مسجد کے اندر تھا کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ حماس کے ایک مبینہ کمانڈر کے گھر کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی طبی رضاکار نے حماس کے حملے کے بعد کیا دیکھا؟ ’وہاں افراتفری کا عالم تھا‘
Copyright: Getty Imagesاسرائیل کی قومی رضاکار ہنگامی ریسکیو سروس یونائیٹڈ ہتزالہ کے ترجمان رافیل پوچ کا کہنا ہے کہ ’وہاں افراتفری کا عالم تھا۔‘
انھوں نے بی بی سی کے نیوز ڈے پروگرام کو بتایا کہ سنیچر کی صبح ان کی آنکھ راکٹوں کے دھماکوں سے کھلی تھی جو اسرائیل پر حماس کے حملے کا حصہ تھے، جس میں اب تک تقریباً 900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس کے بعد آنے والے پریشان کن گھنٹوں کے بارے میں پوچ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے رضاکاروں کا ایک رکن زخمی ہوا، جبکہ ایک اور زخمی رکن دوسرے لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے مارا گیا۔‘
لوگوں کو طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے اسرائیل بھر میں تقریباً 1500 رضاکاروں کو بلایا گیا ہے۔ پوچ نے بتایا کہ کس طرح انھوں نے ہیلی کاپٹروں اور ایمبولینسوں کے ذریعے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں تک پہنچایا۔
انھوں نے مزید کہا کہ نئے رضاکار ان لوگوں کی جگہ لینے کے لیے قدم بڑھا رہے ہیں جو تھکے ہوئے ہیں اور انھیں آرام کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم قصبوں میں گھر گھر جا رہے ہیں جہاں لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں کیونکہ یہ بہت خطرناک ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں خوراک، پانی اور دوائیاں فراہم کی جائیں۔‘
بریکنگ جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد تباہی کے مناظرفلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے شمال میں گنجان آباد جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔
بی بی سی عربی نے فضائی حملے سے ہونے والی تباہی کے چند مناظر کو فلمایا ہے۔
انتباہ: کچھ ناظرین کو یہ مناظر پریشان کن لگ سکتی ہیں۔
Video content
Video caption: جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد تباہی کے مناظر بریکنگ حماس کے حملے میں 18 تھائی شہریوں کی ہلاکت
تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل پر حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے تھائی شہریوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔
بی بی سی نے گذشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے 12 تھائی باشندوں کو ہلاک اور 11 کو اغوا کر لیا ہے۔
وزارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے تھائی شہریوں کی رہائی میں مدد کے لیے کہہ رہا ہے۔
غزہ پر زمینی حملہ کرنا اتنا اسان نہیں ہے
فرینک گارڈنر، سیکورٹی نامہ نگار
Copyright: Getty Imagesبعض حلقوں میں ایک مفروضہ پایا جاتا ہے کہ حماس سے اسرائیل کو درپیش خطرہ کسی نہ کسی طرح زمینی سطح پر مکمل حملے کے ساتھ ختم ہو سکتا ہے۔
تاریخ بتائے گی کہ یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے جس کی کچھ لوگ امید کر رہے ہیں۔
جب اسرائیل نے 2014 میں غزہ پر حملہ کیا تھا تو 2,000 سے زیادہ فلسطینی مارے گئے اور ہر جنازے میں پہلے سے زیادہ بنیاد پرست نوجوانوں نے جنم لیا۔
اس کے بعد سے حماس نے سرحد پار سے راکٹ فائر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے مسلح ونگ میں تقریباً 30,000 جنگجو ہیں، جن میں سے زیادہ تر فلسطینی سرزمین کے دفاع کے عزم میں جنونی ہیں۔ وہ اپنی سرنگوں، تہہ خانوں، بنکروں اور چور راستوں کو حملہ آوروں سے بہتر جانتے ہیں۔
اس طرح کی گنجان آبادی والے علاقے میں ٹینکوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، جو گھات لگا کر حملہ کرنے کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔
خالصتاً فوجی نقطہ نظر سے، ایک زمینی حملہ قلیل مدتی کامیابی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے حماس کے زیادہ تر کمانڈروں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
لیکن دیرپا امن معاہدے کی عدم موجودگی میں، حماس ممکنہ طور پر خود کو دوبارہ مضبوط کرے گی، جو ناراض، بنیاد پرست نوجوان جنگجوؤں کی نئی نسل کو اپنے میں شامل کرے گی


