اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے بڑھ گئی : اسرائیل کے حملوں کے جواب میں حماس نے اسرائیلی شہر عشقلان پر حملے کی دی دھمکی ، شہر خالی کرنے کی ہدایت : فلسطینی عوام کے جائز حقوق، منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہیں: شہزادہ محمد بن سلمان

حماس کی اسرائیلیوں کو جنوبی شہر خالی کرنے کی ہدایت، اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی

حماس کے ‘طوفان الاقصیٰ آپریشن’ کے آغاز اور اسرائیل کے جوابی حملوں میں اب تک 1000 اسرائیلیوں اور 830 فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق 100 سے 150 کے درمیان اسرائیلی شہری غزہ میں یرغمال ہیں اور وزیراعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ ان افراد کی بازیابی کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔ حماس کی جانب سے جنوبی اسرائیلی شہر عشقلان کے رہائشیوں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

خلاصہ

حماس کے ‘طوفان الاقصیٰ آپریشن’ کے آغاز اور اسرائیل کے جوابی حملوں میں اب تک 1000 اسرائیلیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہےحماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر بمباری کے نتیجے میں اب تک 830 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیںغزہ پر اسرائیل کے حملوں کے جواب میں حماس نے اسرائیلی شہر عسقلان پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے اور مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے تک رہائشیوں کو شہر خالی کرنے کی ہدایت کی ہےحماس کی جانب سے اسرائیلی فضائی بمباری کے ردعمل میں مغویوں کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی گئی ہےاسرائیلی وزیر دفاع نے غزہ کی پٹی کے مکمل محاصرے کا حکم دیا ہے اور فلسطینی عوام کے لیے خوراک، ایندھن، بجلی اور پانی کی فراہمی بند کر دی گئی ہےایک پوسٹ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے انتہائی شمال میں واقع شہر کے رہائشیوں کے پاس مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے تک کا وقت ہے جس میں انھیں شہر خالی کرنا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی افواج نے کہا ہے کہ تل ابیب سمیت اور پورے اسرائیل میں سائرن بجائے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سینیچر کے روز سے اب تک غزہ سے اسرائیل پر 4500 سے زیادہ راکٹ داغے جا چکے ہیں۔

’اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ گئی‘

امریکہ میں قائم اسرائیلی سفارتخانے نے اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھنے کا دعویٰ کیا ہے۔اسرائیلی سفارت خانے کے بیان کے مطابق ’سینیچر سے اب تک کم از کم 1,008 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔‘سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے سفارتخانے نے کہا کہ ان حملوں میں 3,418 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

فلسطینی عوام کے جائز حقوق، منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہیں: شہزادہ محمد بن سلمان

ثمیر ہاشمی نامہ نگار مڈل ایسٹ، بی بی سی نیوزسعودی شہزادہ محمد بن سلمانReutersCopyright: Reuters
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فلسطینی صدر محمود عباس سے فون پر بات چیت میں کہا ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی اور علاقائی جماعتوں کے ساتھ مل کر تنازعہ کو بڑھنے سے روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کے ساتھ ان کے جائز حقوق اور منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے کھڑا رہے گا۔یاد رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس اور غزہ کی پٹی پر قابض حماس سیاسی حریف ہیں۔ محمود عباس مغربی کنارے کو کنٹرول کرنے والیفتح تحریک وہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سربراہ بھی ہیں۔تاہم ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اسرائیل، سعودی عرب اور امریکا کے درمیان جاری سہ فریقی مذاکرات کے پس منظر میں فلسطینیوں کے لیے سعودی عرب کی حمایت اہمیت کی حامل ہےتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے تنازع نے معمول پر آنے والی بات چیت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔حماس کے حملے کے بعد سنیچر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں سعودی عرب نے اسرائیل کو اس کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔اس بیان میں میں کہا گیا ہے کہ اس نے ’مسلسل قبضے کے نتیجے میں صورت حال کے خراب ہونے کے خطرات کو بڑھانے، فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے، اور اس کے مقدس قمامات کے خلاف منظم اشتعال انگیزیوں کے اعادہ کے بارے میں بار بار انتباہ جاری کیا ہے۔‘
حماس کی اسرائیل کے شہر عسقلان کے رہائشیوں کو شہر خالی کرنے کی ہدایت
غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے جواب میں حماس نے اسرائیلی شہرعسقلان پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔حماس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے انتہائی شمال میں واقع شہر کے رہائشیوں کے پاس مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے تک کا وقت ہے جس میں انھیں شہر خالی کرنا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی افواج نے کہا ہے کہ تل ابیب سمیت اور پورے اسرائیل میں سائرن بجائے جا رہے ہیں۔اسرائیلی فوج کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سینیچر کے روز سے اب تک غزہ سے اسرائیل پر 4500 سے زیادہ راکٹ داغے جا چکے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading