جب ٹیچر و پولیس سمیت کئی شعبوں میں اسامیاں خالی ہیں تو حکومت بھرتی کیوں نہیں کرتی؟: اشوک چوہان
چھترپتی سمبھاجی نگر میں مراٹھواڑہ کے تمام اضلاع کی جائزہ میٹنگ کا انعقاد
ممبئی:ریاست کے کئی حصوں میں کاشتکاری کی حالت بہت خراب ہے۔ مراٹھواڑہ میں کم بارش کی وجہ سے خشک سالی کی صورتحال ہے۔ مراٹھواڑہ میں کسانوں کی خودکشی میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ جایک واڑی میں صرف 40 فیصد پانی بچا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت ڈیم کے اوپری حصے سے جایک واڑی میں پانی چھوڑنے کے لیے ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل کرے اور مراٹھواڑہ کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے فوری طور پراسے خشک سالی سے متاثرہ علاقہ قرار دے۔
مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کی مراٹھواڑہ ڈویژن کی جائزہ میٹنگ منگل کو چھترپتی سنبھاجی نگر میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر چھترپتی سنبھاجی نگر، جالنہ، لاتور، ناندیڑ، ہنگولی، پربھنی دھراشیو اور بیڈ اضلاع کا جائزہ لیا گیا۔ اس میٹنگ میں ریاستی صدر نانا پٹولے، سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان، ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر اور مراٹھواڑہ ڈویژن کے انچارج نسیم خان، سابق وزیر امیت دیشمکھ، ایم ایل اے سریش ورپوڈکر، سابق وزیر ڈی پی ساونت، انیل پٹیل، سابق ایم ایل اے امرراجورکر، ریاستی سیوادل کے صدر ولاس اوتاڈے، چھترپتی سمبھاجی نگر ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر ڈاکٹر کلیان کالے سمیت کئی عہدیدار اور کارکنان موجود تھے۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر سے حلقہ وار جائزہ میٹنگیں چل رہی ہیں۔ مراٹھواڑہ کے تمام آٹھوں اضلاع کا آج جائزہ لیا گیا۔ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ادے پور کیمپ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد ہوا یا نہیں۔ناناپٹولے نے کہا کہ تنظیمی ڈھانچہ کو مضبوط کرتے ہوئے کانگریس کے نظریات کو سماج کے ہر طبقے تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ کانگریس پارٹی نے ذات پرمبنی مردم شماری کرانے کااعلان کیاہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریزرویشن کے معاملے پر دو طبقوں کے درمیان تنازعہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ 2014 میں بی جے پی نے مراٹھا، دھنگر، گواری اور ٹھاکر برادری کے لوگوں کو ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ملک اور ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے کے باوجود انہوں نے ریزرویشن نہیں دیا۔ مردم شماری 2021 میں ہونی تھی لیکن آج تک نہیں ہو سکی۔ بی جے پی جان بوجھ کر مردم شماری نہیں کر رہی ہے۔ سمبھاجی نگر کے گھاٹی اسپتال کے علاوہ ناندیڑ اور ناگپور کے سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کی موت ہوگئی۔ ہائی کورٹ نے بھی اس معاملے پر حکومت کی سخت سرزنش کی لیکن اندھی اور بہری بی جے پی حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ نہایت غلط رویہ اپنارہی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے مرکزی تفتیشی ایجنسی کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی حکومت نے تحقیقات کے نام پر ہمارے لیڈر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے ساتھ بھی غلط سلوک کیا۔ یہاں تک کہ جب سونیا گاندھی بیمار تھیں، تب بھی بی جے پی حکومت نے انہیں ای ڈی کے دفتر بلایا اور تحقیقات کے نام پر ہراساں کیا۔ بی جے پی حکومت نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی جو توہین کی ہے اسے کانگریس کارکن کبھی نہیں بھولیں گے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان نے کہا کہ ناندیڑ اسپتال میں طبی عملے اور افسران کی کمی کی وجہ سے مریضوں کی موت ہو رہی ہے۔ مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے صرف تین نرسیں تھیں۔ ادویات کی بھی قلت ہے۔ ریاستی حکومت کو محکمہ صحت پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تمام سرکاری آسامیاں کنٹریکٹ کی بنیاد پر نہ پُر کی جائیں۔ تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کی نیم عدالتی آسامیاں ذاتی طور پر پر نہ کی جائیں۔ جھاڑو دینے والے، سیکورٹی گارڈ جیسی آسامیاں کنٹریکٹ کی بنیاد پر پُر کی جا سکتی ہیں لیکن اہم سرکاری اسامیاں کنٹریکٹ کی بنیاد پر نہیں پُر کی جانی چاہئیں۔ صحت اور تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس میں بھی ٹھیکہ سسٹم جیسی اسکیمیں چلائی جارہی ہیں۔ چوہان نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ آج ریاست میں اساتذہ، پولیس فورس سمیت مختلف محکموں میں کئی عہدے خالی ہیں لیکن حکومت ان عہدوں کو کیوں نہیں بھر رہی ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی میں فلسطین کی حمایت کی قرارداد منظور
ریاستی کانگریس کے کارگزارصدر وسابق وزیرنسیم خان نے استقبال کیا
ممبئی: گزشتہ کل نئی دہلی میں منعقد ہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں فلسطین کی حمایت کی قرارداد منظور کیے جانے کا مہاراشٹر کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر وسابق وزیرنسیم خان نے استقبال کیا ہے۔ میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان کی روایت فلسطین کی حمایت کی رہی ہے اور اسی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے فلسطین کی حمایت کی ہے،جس کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ کانگریس کی مجلسِ عاملہ میں فلسطین کی حمایت میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ”سی ڈبلیوسی مشرقِ وسطیٰ میں چھڑی جنگ اور ہزاروں لوگوں کے مارے جانے پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے۔ سی ڈبلیوسی فلسطینی لوگوں کی ان کی زمین اور وقار کے ساتھ ان کی زندگی جینے کے حقوق کے لیے اپنے دیرینہ حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔ سی ڈبلیوسی فوری طور پر جنگ بندی اور موجودہ حالات کے سبب بننے والے وجوہات پر فوراً بات چیت شروع کرنے کی اپیل کرتی ہے۔
نسیم خان نے کہا کہ ہندوستان اور پی ایل او کے سابق سربراہ یاسرعرفات کے درمیان بہت گہرے روابط رہے ہیں اور یہ رابطہ فلسطین کی حمایت کا تھا۔ ہندوستان کا موقف ہمیشہ یہی یہی رہا ہے کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی غصب کی ہوئی زمین کوواپس کرنا چاہئے۔ یہی موقف کانگریس کی حکومتوں کا رہا ہے اور یہی موقف بی جے پی کے سابق وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کا بھی رہا ہے۔ اٹل بہاری واجپئی نے اسرائیل کو صاف طور سے کہا تھا کہ اسے فلسطینیوں کی قبضہ کی ہوئی زمین واپس کرنی ہوگی۔ لیکن بدقسمتی سے آج ملک کے موجودہ وزیراعظم اسرائیل کی حمایت کا اعلان کررہے ہیں۔ انہیں کم ازکم ملک کی روایت اور اپنے ہی سابق وزیراعظم کے موقف کی پاسداری کرنی چاہئے تھی۔
نسیم خان نے کہا کہ سرزمین فلسطین انبیاء کی سرزمین رہی ہے۔ یہیں پر مسلمانوں کا قبلہئ اول ہے۔ اس لیے اس سرزمین اور وہاں کے رہنے والے مسلمانوں سے پوری دنیا کے مسلمانوں کا جذباتی اور والہانہ لگاؤ ہے۔ اسی وابستگی کے تحت آج پوری دنیا کے مسلمان فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے لیے دعاگو ہیں۔ نسیم خان نے کہاکہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی جارحانہ کارروائی برسہابرس سے جاری ہے۔ پوری فلسطینی قوم اسرائیل کے مظالم کی شکار ہے۔ جب اسرائیل فلسطینوں پر ظلم کرتا ہے تو کوئی آواز بلند نہیں ہوتی اور آج اگر فلسطین کے مسلمان اسرائیل کو اس کے ظلم کا جواب دے رہے ہیں تو کچھ لوگوں بلبلانے لگے ہیں۔