لبنانی حزب اللہ کی جانب سے ہفتہ کے روز گولان کے گاؤں مجدل شمس میں راکٹوں سے حملہ کرکے 10 اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے پر اسرائیل کے سخت جواب کی دھمکیوں کے بعد ایران نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کردیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ ان کا ملک اسرائیل کو لبنان میں کسی بھی نئے خطرے سے خبردار کرتا ہے۔ ایران اسرائیل کو لبنان میں کسی بھی نئی فوجی مہم جوئی کے خلاف خبردار کرتا ہے اور اس کے "غیر متوقع نتائج” سامنے آسکتے ہیں۔
ناصر کنعانی نے مزید کہا کہ اسرائیلی جہالت کی عکاسی کرنے والا کوئی بھی قدم خطے میں عدم استحکام، عدم تحفظ اور جنگ کو بڑھا سکتا ہے۔ اسرائیل اس طرح کے احمقانہ رویے کے غیر متوقع نتائج اور رد عمل کا بھی ذمہ دار ہوگا۔
یہ انتباہ گولان کی پہاڑیوں کے واقعے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے جہاں اسرائیلی حکام نے کہا تھا کہ ہفتہ کو فٹ بال میدان میں راکٹ حملے سے بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اسرائیل نے اس حملے کی ذمہ داری ایرانی اتحادی لبنانی حزب اللہ پر عائد کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ حزب اللہ کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ حزب اللہ نے نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میزائل "ایرانی ساختہ” تھا۔ فوج نے قصبے میں فٹ بال کے میدان کو نشانہ بنانے والے میزائل کی شناخت "فلق-1” ماڈل کے "ایرانی ساختہ” کے طور پر کی ہے۔ یہ ایسا میزائل ہے جس میں 50 کلو گرام دھماکہ خیز مواد موجود ہوتا ہے۔