اجیت پوار کی رحلت: سیکولر سیاست کا مضبوط ستون منہدم سیاست، انت ظامیہ اور سیکولر عوامی اعتماد کا ایک پورا عہد خاموش ہوگیا

اجیت پوار کی رحلت: سیکولر سیاست کا مضبوط ستون منہدم

سیاست، انتظامیہ اور سیکولر عوامی اعتماد کا ایک پورا عہد خاموش ہوگیا

اسپیشل تجزیاتی رپورٹ (آفتاب شیخ)

مہاراشٹر کی سیاست آج سوگوار ہے۔ ایک ایسا چراغ اچانک بجھ گیا ہے جس کی روشنی صرف ایوانوں تک محدود نہیں تھی بلکہ عام آدمی کے دلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اجیت پوار کا طیارہ حادثے میں انتقال محض ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ یہ ایک پورے سیاسی عہد کے اختتام، ایک مضبوط انتظامی ستون کے گرنے اور عوامی اعتماد کے ایک استعارے کے خاموش ہو جانے کا لمحہ ہے۔ ان کی آخری رسومات کی ادائیگی کے ساتھ ہی مہاراشٹر نے یہ شدت سے محسوس کیا کہ کچھ شخصیات عہدوں سے بھی ہوتی ہیں، اور ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ برسوں پُر نہیں ہو پاتا۔

ایک عوامی لیڈر جس نے ہر دل میں جگہ بنائی

اجیت پوار کا سفر سیاسی میدان میں صرف ایک عہدہ نہیں، بلکہ عوام کے ساتھ ایک گہرا رشتہ تھا۔ وہ نہ صرف ایک تجربہ کار منتظم تھے بلکہ ایک ایسے رہنما تھے جو ہر طبقے، ہر مذہب، اور ہر پس منظر کے لوگوں کے حقوق اور مساوی مواقع کے لیے دل و جان سے کام کرتے تھے۔ ان کی شخصیت میں سچائی، مضبوط ارادہ، اور عوامی خدمت کا جذبہ ہر لمحہ واضح رہتا تھا۔ ان کی قیادت میں عوامی خدمت کا نصب العین ہمیشہ سچا رہا۔ وہ جو بھی کام شروع کرتے، اسے آخر تک پہنچانے کی لگن رکھتے تھے — ایک ایسا اعتماد جو عام آدمی کو ان کی طرف کھینچتا تھا۔ خاص طور پر اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور کمزور معیشتی پس منظر رکھنے والے لوگوں نے ان کے ساتھ جڑاؤ اور امید محسوس کی۔

اجیت پوار کی شخصیت کا ایک نمایاں، کم یاب اور فیصلہ کن پہلو یہ تھا کہ وہ کسی سے مرعوب ہونے والے لیڈر نہیں تھے۔ اقتدار ہو یا اختلاف، دباؤ ہو یا مخالفت — وہ اپنے فیصلوں، اپنی زبان اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے والے سیاستدان تھے۔ اجیت پوار نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور پالیسی میں ہر سماجی گروہ کو بالکل برابر کی شراکت ملنی چاہیے۔ ان کی قیادت نے اس سوچ کو مضبوطی سے آگے بڑھایا — ایک ایسی سوچ جسے آج بہت سے لوگوں کے دلوں میں یاد رکھا جاتا ہے اور جس کا خلا اب بے حد محسوس کیا جائے گا۔

سیاست میں مراٹھی زبان میں ان کے بارے میں یہ جملہ محض ایک مقولہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی یقین بن چکا تھا: “एकच वादा – अजित दादा”۔ یعنی جب اجیت دادا نے وعدہ کر لیا تو پھر اس وعدے کی پاسداری ایک اصول بن جاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی بات محض تسلی نہیں، یقین ہوتی تھی اور ان کا وعدہ محض اعلان نہیں، انجام تک پہنچنے والا عمل۔

وہ ان منفرد سیاسی رہنماؤں میں شامل تھے جن کے لیے عوامی خدمت کسی فائل یا دفتر کی حد تک محدود نہیں تھی۔ صبح سات بجے سے عوام میں دستیاب ہونا ان کی عادت میں شامل تھا۔ عام آدمی ہو یا زمینی کارکن، افسر ہو یا نمائندہ — ہر شخص کو یہ احساس ہوتا تھا کہ اس کی بات سنی جائے گی۔ اسی بے تکلف رسائی اور عملی سنجیدگی نے انہیں عوام کی نظر میں صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ بھروسے کی علامت بنا دیا تھا۔

منترالیہ کے ایوانوں میں یہ بات زبان زدِ عام تھی کہ اگر اجیت پوار ممبئی میں ہیں تو وہ صبح سب سے پہلے منترالیہ پہنچنے والوں میں ہوتے تھے، اور اگر کوئی دوسرا سیاسی یا عوامی پروگرام نہ ہو تو سب سے آخر میں منترالیہ سے واپس جانے والوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے پاس جو بھی محکمہ یا وزارت ہوتی، وہاں کام کے رکے رہنے کی شکایت شاذ ہی سنائی دیتی تھی۔ فائلیں ان کے پاس رکتی نہیں تھیں، فیصلے تعطل کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ان کے دستخط کے ساتھ کام میں رفتار آتی تھی، انتظامیہ میں جان پڑ جاتی تھی، اور عام شہری کو یہ اطمینان ہوتا تھا کہ “یہ معاملہ دادا کے پاس پہنچ گیا ہے، اب یہ ہوگا ضرور”۔

وقت کی پابندی ان کی زندگی کا مستقل اور غیر متزلزل اصول تھی۔ وہ جسے میٹنگ کے لیے وقت دیتے یا کسی پروگرام کے لیے حامی بھرتے، خود وقت سے پہلے پہنچنا اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ شاید اسی لیے آج عوامی حلقوں میں یہ جملہ ایک دردناک علامت کے طور پر دہرایا جا رہا ہے کہ جو شخص زندگی بھر ہر کام کرنے کے لئے وقت سے پہلے پہنچتا رہا، وہ اپنی آخری منزل کی طرف بھی وقت سے پہلے ہی روانہ ہو گیا۔ ان کی یہ اچانک رحلت محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ مہاراشٹر کی سیاسی تاریخ کا وہ لمحہ ہے جس نے انتظامیہ، سیاست اور عوامی اعتماد — تینوں کو ایک ساتھ ساکت کر دیا ہے۔

اجیت پوار کی پہچان صرف مضبوط انتظامی گرفت یا فیصلہ کن سیاست تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ آج کے دور میں بھی ایک سچے سیکولر لیڈر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ حکومت اور پارٹی میں ہر سماج، ہر طبقے اور ہر مذہب کے لوگوں کو برابر کی شراکت ملے — اس سوچ پر وہ نہ صرف یقین رکھتے تھے بلکہ عملی طور پر اس کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ خاص طور پر اقلیتی طبقوں کے لیے ان کی موجودگی ایک اخلاقی تحفظ کی مانند تھی۔ وہ مسائل کو محض سیاسی عینک سے نہیں بلکہ انسانی نقطۂ نظر سے دیکھتے تھے۔

ان کے رحلت کے بعد جو سب سے گہرا اور تشویشناک خلا محسوس کیا جا رہا ہے، وہ اقلیتوں کے اعتماد کا خلا ہے۔ ایک ایسا لیڈر جو طاقت کے مراکز میں بیٹھ کر بھی کمزور کی بات کہنے کا حوصلہ رکھتا ہو، جو انتظامیہ پر اپنی مضبوط پکڑ کے ذریعے مسائل کو صرف سنے نہیں بلکہ حل کروائے — ایسے رہنما کا چلے جانا اقلیتی طبقات کے لیے آئندہ دنوں کو مزید کٹھن بنا سکتا ہے۔ وہ آواز جو توازن رکھتی تھی، وہ شخصیت جو فیصلوں میں انصاف کی ضمانت سمجھی جاتی تھی، آج خاموش ہو چکی ہے۔

نئی نسل، نوجوانوں اور زمینی کارکنوں کو آگے بڑھانا بھی ان کی سیاست کا ایک مضبوط ستون تھا۔ وہ صرف قیادت نہیں کرتے تھے بلکہ قیادت تیار کرتے تھے۔ کارکنوں کی حوصلہ افزائی، نوجوانوں کو اعتماد دینا اور انہیں عملی سیاست میں جگہ دینا ان کی مستقل کوشش رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے جانے کا دکھ صرف پارٹی یا حکومت تک محدود نہیں بلکہ ہر اس شخص کے دل میں ہے جس نے کبھی ان پر بھروسا کیا تھا۔

اجیت پوار کا جانا مہاراشٹر کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے جن کی شخصیت، زبان کی پاسداری، انتظامی قوت اور عوامی وابستگی نے سیاست کو محض اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ بنایا۔ آج ریاست ایک بڑے سیاسی، انتظامی اور اخلاقی خلا سے دوچار ہے — ایسا خلا جسے پُر کرنے کے لیے صرف عہدے کافی نہیں، بلکہ وہی جرأت، وہی سچائی اور وہی عوامی تڑپ درکار ہوگی جو اجیت دادا کی پہچان تھی۔

ایک یاد، ایک منظوم میراث

اجیت پوار نے سیاست کو ایک انسانی خدمت کا نام دیا۔ وہ ایک ایسے لیڈر تھے جنہوں نے ذاتی مقام کو عوامی خدمت میں ڈھالا، ہر حال میں عوام کے دکھ درد کو سمجھنے کی کوشش کی، اور ہر طبقی، مذہبی، اور جغرافیائی گروہ کو آواز دی۔

ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عظیم لیڈرشپ صرف اقتدار نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کا نام ہے۔ مہاراشٹر نے آج ایک عظیم روح کھو دی، اور اس کا خلا صرف وقت اور وفادار عوام کے عزم سے ہی پُر ہو سکتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading