آگرہ:02فروری(یواین آئی)بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے بدھ کو اپنی پہلی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ سال 2007 کی طرح اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج حیران کن ہوں گے اور بی جے پی سادہ اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔آگرہ کے کوٹھی مینا بازار میں اپنی پہلی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا’ سال 2007 کی طرح اس بار کے اسمبلی انتخابات کے نتائج حیران کن ہونگے۔بی ایس پی علیحدہ اپنے دم پر الیکشن لڑرہی ہے۔اور ریاست میں سادہ اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کرنے جارہی ہے۔
بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ آزادی کے بعد سب سے زیادہ لمبے عرصے تک صرف کانگریس ہی اقتدار میں رہی لیکن اپنی پالیسیوں کی وجہ سے آج وہ اقتدار سے باہر ہے۔کانگریس دلت، قبائلی اور او بی سی سماج مخالف رہی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ سنٹر میں ہونے کے باوجود کانگریس نے آئین ساز بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کو بھارت رتن نہیں دیا۔اترپردیش کی سابق وزیر اعلی نے کہا جب بابا صاحب کی تحریک کو آگے بڑھانے والے کانشی رام کا انتقال ہوا تو اس وقت کانگریس کی مرکز میں حکومت تھی لیکن اس نے ایک بھی دن کے سوگ کا اعلان نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس دلتوں،قبائلیوں اور او بی سی سماج کے ووٹ کے لئے ہمیشہ ناٹک کرتی رہی ہے۔
سماج وادی پارٹی(ایس پی) کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں نے دعوی کیا کہ ایس پی حکومت غنڈے و مافیاؤں کے ذریعہ چلائی جارہی تھی۔ایس پی اقتدار میں ہر جگہ فسادات ہوتے رہتے تھے۔مظفر نگر فسادات ایس پی حکومت کے دوران اقتدار ہونے والے تشدد کی سب سے بڑی مثال ہیں۔انہوں نے ایس پی پر پارلیمنٹ میں پرموشن میں ریزرویشن کے بل کو پاس نہ ہونے دینے کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ’جب پرموشن میں ریزرویشن کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تو ایس پی نے اس کی مخالفت کی اور اسے پارلیمنٹ میں پاس نہیں ہونے دیا جو دلت سماج کے آگے بڑھنے میں مانع رہا۔یہ سماج وادی پارٹی کا حقیقی چہرہ ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کی پالیسی سازی اور طرز عمل میں ذات پات ،سرمایہ داری اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کا نفاذ شامل ہوتا ہے۔
بی ایس پی سپریمو نے کہا’ بی جے پی حکومت مذہب کے نام پر نفرت و تناؤ کو پھیلاتی ہے۔بی جے پی حکومت میں دلت اور خواتین محفوظ نہیں ہے۔ لیکن یہ میڈیا میں نہیں دکھایا جاتا ہے۔انہو ں نے کہا کہ آگرہ میں دلت سماج کی حالت اتنی خراب ہے کہ ایک دلت نوجوان کی پولیس حراست میں موت ہوگئی۔بی جےپی حکومت میں اوبی سی اور دلت سماج کو ریزرویشن کا مکمل فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ریزرویشن ختم کرنے کرنے کے لئے بی جے پی حکومت سرکاری اداروں کو پرائیویٹائز کررہی ہے۔
مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی، بے روزگاری اور غریبی میں اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی کی بی جے پی حکومت سے کسان کافی دلبرداشتہ ہیں۔بی ایس پی لیڈر نے کہا کہ کانگریس،بی جے پی اور ایس پی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بے روزگاروں کو ریاست سے باہر کا رخ کرنا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری میعاد کار میں مجرمین کی اصل جگہ جیل تھی۔بی ایس پی سپریمو نے وعدہ کیا کہ اگر ان کی حکومت بنتی ہے تو ایسے مقدمات کی جانچ ہوگی جس میں لوگوں کو مذہب، ذات اور سیاسی انتقام و احتجاج کی وجہ سے جھوٹے مقدمات میں پھنسائے گیا ہے اور ایسے کیسز کو ختم کیا جائے گا۔
انہوں نے لوگوں کو محتاط کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے ہتھکنڈوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے وہ اپنے حق میں ماحول تیار کر نے کے لئے میڈیا کے گمراہ کن سروے اور اوپینین پول کا استعمال کریں گے لیکن عوام کو اس سے قطعی گمراہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔مایاوتی نے میڈیا کو بھی اپنا ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ’کچھ ذات پات کے حامی میڈیا اداروں نے ہماری پارٹی کے لیڈروں کی حوصلہ شکنی کے لئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے وہ ہمیشہ یہ دکھاتے رہے ہیں کہ ہمارے لیڈر کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ جیسے ہی کورونا وبا کا انفکشن کم ہوا میں فورا دہلی سے لکھنؤ منتقل ہوگئی۔گذشتہ ایک سالوں سے میں لکھنؤ سے پارٹی کو تقویت فراہم کررہی ہوں۔اس مدت میں میں صرف دو دنوں کے لئے دہلی گئی جب میری والدہ کا انتقال ہوا۔