اب I LOVE MOHAMMAD‘‘ نہیں:نتیش رانے کی نئی بکواس

مبئی: انڈھیری میں کاوڑ یاترا کے موقع پر مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے نے سخت ہندوتوا نظریات پر مبنی بیان دیتے ہوئے ایک بار پھر سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ نتیش رانے نے کہا کہ چند سال قبل کاوڑ یاترا محدود پیمانے پر نکالی جاتی تھی، تاہم اب ہندو رکشک سینا نے اسے بڑے پیمانے پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نتیش رانے نے کہا کہ ’’یہ ملک ہندو راشٹر ہے۔ ممبئی اور مہاراشٹر مہادیو کی سرزمین ہے، اس لیے ہندوؤں کا ہر تہوار بڑے پیمانے پر منایا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہندوتوا نظریات رکھنے والی حکومت ہے، ’’ہم یہاں تہوار نہیں منائیں گے تو کیا پاکستان میں منائیں گے؟‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ آج تمام بھگوا دھاری اقتدار اور وزارت میں موجود ہیں۔ ممبئی میں ’’I LOVE MOHAMMAD‘‘ نہیں بلکہ ’’I LOVE مہادیو‘‘ چلے گا۔ نتیش رانے کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر بحث اور تنازع شروع ہوگیا ہے، جبکہ اپوزیشن کو بھی حکومت پر حملہ کرنے کا موقع مل گیا ہے۔

’تریشول چلانے میں پی ایچ ڈی کی ہے‘

نتیش رانے نے مزید کہا کہ ریاست اور ممبئی میں ہندوتوا نظریات رکھنے والے وزیر اعلیٰ اور میئر ہیں، اس لیے ہندوتوا کا جوش سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ بھگوا اور I LOVE مہادیو والوں کی ممبئی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’مچھلی اور بندرگاہوں کے وزیر کے ساتھ سبز سانپوں کی پرورش کا محکمہ بھی میرے پاس ہی ہے، اسی لیے مجھے تریشول دیا گیا ہے۔‘‘

نتیش رانے نے مزید کہا، ’’تریشول استعمال کرنے میں میں نے PhD کی ہے۔ جو شخص ہندوؤں کو بری نظر سے دیکھے گا، اس کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ایک ہندو کی حیثیت سے تریشول میرے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔‘‘

راہل گاندھی اور سنجے راؤت پر تنقید

نتیش رانے نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کا پونے کا پروگرام دیکھنے کے بعد انہیں سمجھ نہیں آیا کہ انہوں نے گراؤنڈ پر پروگرام کیوں منعقد کیا۔ ان کے مطابق اس کے بجائے ڈی وائی پاٹل یا بھارتی ودیاپیٹھ میں پروگرام منعقد کیا جاسکتا تھا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تمام طلبہ کو زبردستی پروگرام میں لایا گیا اور کھڑا کیا گیا تھا، جبکہ انفلوئنسرز کو راہل گاندھی کے بارے میں اچھی باتیں کہنے کے لیے پیسے دیے جا رہے تھے۔

نتیش رانے نے کہا کہ آج وزیر اعلیٰ کے پروگرام میں حقیقی نوجوان نظر آئے۔ انہوں نے مہاوکاس اگھاڑی کے رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں وزیر اعلیٰ کا پروگرام دیکھ کر سیکھنا چاہیے کہ Gen Z کے ساتھ کس طرح رابطہ قائم کیا جاتا ہے۔

آدتیہ ٹھاکرے کے ترنگا احتجاج پر بھی تنقید

نتیش رانے نے شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رہنما اور رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے کے ترنگا احتجاج پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ’’یہ سب ان کا ہی گناہ ہے، ہم ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ذریعے ان کے گناہ دھونے کا کام کر رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر کے تمام میدان پہلے ’’نائٹ لائف گینگ‘‘ کو دے دیے گئے تھے، جبکہ موجودہ حکومت ان میدانوں کو دوبارہ درست طریقے سے استعمال میں لانے کا کام کر رہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading