شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگری، یوپی.9554633547
کل ترکی کی اعلیٰ عدالت کونسل آف اسٹیٹ کی جانب سے "آیا صوفیا ” کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کے حق میں فیصلہ آنے اور صدارتی حکم کے بعد آیا صوفیا کی میوزیم کی حیثیت ختم ہو نے کی خبر اور اس کا کنٹرول محکمہ مذہبی امور کے سنبھالنے کی دستاویزیں جوں ہی شوشل میڈیا پر شائع کی جاتی ہیں ۔۔۔
اسی وقت سے عالم اسلام بقعہ نور و نکہت میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔۔ عیسائیت کی دنیا میں ہر فرد گھٹن اور اپنے وجود پر خطرات کے بادل مڑ لا نے کی گھٹا ٹوپ لمحات کو محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔اور ادھر ہر صاحب ایمان کے چہرے پر مسکراہٹوں کا بسیرا چھا جاتا ہے اور ہر کوئی زبان و تحریر کے ذریعہ عالم اسلام کے بیباک لیڈر ترکی صدر رجب طیب اردگان کو تہنیت پیش کرتے ہوئے نظر آنے لگتا ہے ۔۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے جب آج بروز سنیچر اللہ اکبر کی صدائیں آیا صوفیا کے گوشوں میں گونجتی ہیں تو عالم کے زندیقوں کی نظریں اس عمارت پر جم کر اپنے وجود و بقا کی شان و شوکت پر ماتم کناں ہوجاتی ہیں اور ایوان کفر کی بنیادیں ایک بار پھر جاء الحق و زهق الباطل کے نعروں سے دہل جاتیں ہیں ___اور ہر فرد سلیمانی کا ذہن و دماغ مذہب اسلام کی قوت و طاقت کا مظاہر یوں کرتا ہوا نظر آتا ہے
کہ ۔۔۔۔۔
اسلام تیری نبض نہ ڈوبے گی حشر تک
تیری رگوں میں خون رواں ہے چار یار کا۔۔
قارئین کرام۔۔۔!
آیا صوفیا استنبول میں واقع ایک تاریخی عبادت گاہ ہے جو ماضی میں یونانی راسخ العقیدہ مسیحی جامع کیتھیڈرل، رومی کاتھولک کیتھیڈرل، عُثمانی مسجد اور سیکولر میوزیم کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے ۔
اور بی بی سی اردو ویب ساٹڈ کے حوالے سے یہ بات نقل کررہا ہوں کہ رومی شہنشاہ جسٹینین اول کے عہد میں سنہ 537ء میں اس کی تعمیر ہوئی تھی۔ اور اس کی خصوصیت پر نظر رکھتے ہوئے چلے تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اس زمانے میں یہ دنیا کی سب سے زیادہ جگہ رکھنے والی اور پہلی مکمل محراب دار چھت رکھنے والی جائے عبادت تھی۔
اسے بازنطینی فن تعمیر کا نچوڑ سمجھا بھی جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر سے "فن تعمیر کی تاریخ بدل گئی تھی ___
اور مزید مسرت و خوشی کی بات یہ ہے کہ اِس وقت یہ عمارت اقوام متحدہ کے عالمی ورثے کی فہرست میں بھی شامل ہے۔
قارئین کرام ۔۔!
یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ 1453ء میں استنبول(قسطنطنیہ) کی فتح کے بعد سلطنتِ عثمانیہ نے اسے مسجد میں تبدیل کردیا تھا اور پھر اس کے بعد یہ تقریباً پونے500 سال تک مسجد رہی تاہم 1934ء میں جدید ترکی کے بانی مصطفٰی کمال اتاترک کے دور حکومت میں اسے ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا ۔
ترکی کی اعلیٰ عدلیہ کونسل آف اسٹیٹ کے ممبران کی اس حقیقت بھری نظریے پر نظر ڈالنے اور دلیل بنانے پر خوب خوب مبارک بادی پیش کرتا ہوں کہ 24 نومبر 1934ءکا حکومتی فیصلہ جس میں اس عمارت کی مسجد کی حیثیت ختم کرکے میوزیم میں تبدیل کیا گیا "وہ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا ہے”۔
#قارئین کرام ۔۔!
یقینا موجودہ دور میں اس تاریخی فیصلے نے زرو مال کی بنا پر فیصلہ کرنے والی عدالتوں کے رخسار پر تاریخی طمانچہ رسید کیا ہے __
اور ترکی صدر کے اس اقدام سے ان مسلم ممالک کے حکمرانوں کو ضرور سبق حاصل کرنا چاہیے جو اپنے اسلامک ڈیموکریسی ملک میں بھی بت خانوں کو آباد کرنے کی باتیں کرتے ہیں ___
اور اس موقع پر مسلم امت کی ترجمانی کا حقیقی کردار نبھانے والے شیر دل انسان کا اپنی قوم سے یہ خطاب کرنا کہ "آیا صوفیا کا جنم نو مسجد اقصی کی آزادی کا مژدہ دیتا ہے” ۔۔۔ اپنے اس بندے کی زبان کو رب وحدہ لاشریک ضرور قبول فرمائے گا __ان شاءاللہ
رب کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولی اس شیر دل انسان کی حفاظت و صیانت فرما۔۔۔۔آمین