بے باک و نڈر وجے واکوڑے :کا یوں اچانک دنیا سے چلے جانے کے سبب حیرت کا جھٹکا لگنا ایک فطری بات ہے پربھنی شہر کے حالیہ ہنگاموں کے بعد ضلع کلکٹر آفس میں منعقدہ امن کمیٹی کی میٹنگ میں انھوں نے کہا کہ ” اچھا ہوا کہ یہ واقعہ دن میں ہوا اور ہمارے لوگوں نے خاطی کو پکڑا اگر یہ رات میں ہوتا تو اس کا الزام مسلمانوں کے سر ڈال کر شہر کا امن برباد کر دیا جاتا ۔
آج یہ کڑوا سچ ہے کہ انتظامیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے کی جرات صرف وجے واکوڑے میں تھی.
شہر میں کسی بھی پسماندہ قوم کے مسلے میں سب سے آگے رہتے تھے۔جب مسلم نوجوانوں کی اے ٹی ایس کے ذریعہ گرفتاری کی گئ اس وقت بھی بڑی بے باکی کے ساتھ پولس محکمے کو لتاڑہ تھا اور ان کے اس گرفتاری کی کھل کر مخالفت کی تھی۔جس کی وجہ سے مزید گرفتاریاں نہیں ہوئ۔
جو مسلمان وجۓ واکوڑے کے قریب تھے وہ ان کی انسانی ہمدردی سے اور مسلم ہمدردی سے واقف ہے۔
ضلع کے دلت اور پسماندہ سماج میں ان کی اچھی خاصی پکڑ تھی۔ ان کی ایک پکار پر سارا بہوجن سماج روڈ پر آجاتا تھا۔
میرا ذاتی تجربہ ہے کہ 2006 میں جب میں دارلعلوم بعمانیہ میں خدمت کرہا تھا اس وقت حاجی نصیر بھائ سوداگر نے دو قد آور نیم کے درخت حاجی حمید کالونی سے مدرسہ کو جلتن کے لۓ دیۓ وہ درخت کی کٹائ کرکے ہم ٹرک سے لارہے تھے تب پولس نے گاڑی حراست میں لیکر نانل پیٹھ میں جمع کردی ہم مدرسہ والے پریشان ہوگۓ ادھر ادھر دجکے کھاۓ لیکن کوئ راستی نہیں نکلا آخر مرحوم شمیم احمد خان صاحب کے پاس پہنچے اتفاق سے وہ سفر میں میں تھے فون پر ان سے بات ہوئ۔انھوں کہا کہ آپ فورا” وجۓ واکوڑے کے پاس جاؤ میں ان سے رابطہ کرتا ہوں ہم وہاں پہنچے پوری تفصیل بتائ ۔۔ہمارے ساتھ وہ نانل پیٹھ پولس تھانہ پہنجے وہاں کے پی آئ کو لتاڑہ اور بیس منٹ میں لکڑیوں سے بھری ٹرک چھڑ واکر بذات خود آکر مدرسہ تک پنچائ
✒حافظ عارف گجراتی