آنگ سان سوچی ، منجو ورما اور ذکیہ جعفری 

ڈاکٹر سلیم خان
ذرائع ابلاغ سے مانوس ہر شخص ان تین خواتین سے واقف ہے۔ان میں سب سے مشہور آنگ سان سوچی ہیں جنہیں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نےمیں جمہوریت کی بحالی اور انسانی حقوق کی جدجہد کے لیے’ضمیر کا سفیر ‘ نامی اعزاز سے 2009 میں نوازہ تھا۔ اس وقت وہ نظر بند تھیں اور انہیں امید،حوصلے اور انسانی حقوق کی علمبردار سمجھا جاتا تھا۔ عالمی دباو کے چلتے فوج نے آنگ سان سوچی کو رہا کردیا اور2015کے اندرمیانمار میںان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی برسر اقتدار آگئی۔ اس کے باوجود فوج کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے مظالم پر سوچی کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اپنا اقتدار بچانے کی خاطر سوچی نے ظالموں کے ساتھ مصالحت کرلی۔ ایمنسٹی نے اپنا ایوارڈ واپس لیتے ہوئے اعلان کیا چونکہ آنگ سان سوچی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم رکوانے میں ناکام رہیں۔ اس لیے ان سے یہ اعزاز چھین لیا گیا۔ ایمنسٹی کے علاوہ کئی دیگریونیورسٹیز اور ادارے بھی سوچی کو دیئے گئے اعزازات واپس لے چکے ہیں۔
اسی طرح بہار کی سابق وزیرمنجو ورما فی الحال گرفتاری کے خوف سے روپوش ہیں۔ مظفر پورشیلٹر ہوم ریپ اور جنسی استحصال معاملے میں استعفیٰ دینے پرمجبور ہونے والی منجو ورما کے گھر سے 50غیر قانونی کارتوس برآمد کیے گئے تھے اس کے باوجود انہیں گرفتار نہیں کیا گیا اور وہ وہ ہنوز فرار ہیں۔عدالتِ عظمیٰ نے گزشتہ سماعت کے دوران بہار پولیس سے استفسار کیا تھا لیکن اس باراپنی بے بسی پرچراغ پاہوکربہار کے ڈی جی پی سے پوچھا ’ کمال ہے ، کسی کو یہ نہیں معلوم کہ سابق وزیر کہاں ہیں؟ اٹس ٹو مچ(یعنی اب تو حد ہوگئی)۔ سپریم کورٹ نے بہار حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آخر سر کار کیا کر رہی ہے ؟اس کے باوجود نظم و نسق کے لیے لقب یافتہ ’ سشاشن بابو‘ نتیش کمار ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ نتیش کمار نے بی جے پی سے دوستی کے باوجود صوبے کو فرقہ وارانہ فسادات سے محفوظ رکھا لیکن سیتا مڑھی فساد کے بعد ان کا دامن بھی داغدار ہوچکا ہےان دونوں معاملات میں نتیش کمار کی بے حسی قابلِ ملامت ہے۔
نتیش کمار کی قیادت میں بہار کی صوبائی حکومت کی قلعی سی بی آئی کی رپورٹ نے کھول دی ہے۔ اس کے مطابق سرکاری تعاون سے چلنے والے مظفر پوربالیکا گریہہ میں 34 بچیوں کی عصمت دری معاملے میں گرفتار سیاسی اثرو رسوخ کے حامل برجیش ٹھاکر کا حکومت بال بیکا نہیں کرسکتی۔ جیل کے اندر اس کے پاس سے موبائل فون برآمد کیا جا چکا ہے۔ مبینہ طورپر نوکرشاہوں سے اچھے تعلقات کی بدولت وہ کچھ بھی کرا سکتا ہے۔ بلیک لسٹ کیے جانے کے باوجود اس کے اداروں کو سرکاری پروجیکٹ دیئے جاتے ہیں۔ فردِ جرم عائد ہوجانے کے بعد بھی اس کے اخبار کو بہار کےمحکمہ اطلاعات وعوامی رابطہ کی طرف سے اشتہارات جاری کئے گئےہیں۔ مظفر پور کے شیلٹر ہوم کے بعد اب بہار میں سرکاری امداد سے چلنے والےمزید 14 شیلٹر ہوم میں نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کا مقدمہ عدالتِ عظمیٰ میں 27 نومبر کو زیر سماعت ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ دوہفتہ بعد بھی انتظامیہ ڈھٹائی سےسپریم کورٹ میں کہہ دے کہ منجو ورما نہیں ملی آپ کو جو کہنا ہے کہو اور جو کرنا ہے کرو۔ ہم کسی سے نہیں ڈرتے۔ ہندوستان کی آنگ سوچی یعنی منجوورما کا شوہرچندر شیکھر پولس کی حراست میں ہے اس لیے کہ وہ شیلٹر ہوم میں بار بار آیا کرتا تھا اور مستقل ٹھاکر کے رابطے میں رہتا تھا۔
منجو کے برخلاف جو عدالت اور پولس سے بھاگتی پھر رہی ہے ایک روشن کردار ذکیہ جعفری کا ہے جو پچھلے 16 سال سے انصاف کی جنگ میں مصروف ِ عمل ہے۔ ذکیہ کے خاوندکانگریس رکن پارلیمان احسان جعفری نے گجرات فساد کے دوران مظلومین کو اپنے یہاں پناہ دے رکھی تھی۔28 فروری 2002 کوبلوائیوں نےاحسان سمیت کم از کم 68 لوگوں کو احمد آباد کے گلبرگ سوسائٹی میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ مارچ 2008 میں سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل شدہ ایس آئی ٹی نے ذکیہ جعفری کے الزامات کی جانچ کے لیے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے 2010 میں 9 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی تھی۔
ایس آئی ٹی نے بعد میں یہ کہتے ہوئے کہ ملزمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے پختہ ثبوت نہیں ہیں، اپنادفتر لپیٹ کر 8فروری 2012 کو داخل کردہ اپنی کلوزر رپورٹ میں مودی اور دوسرے لوگوں کو کلین چٹ دے دی۔2013 میں نچلی عدالت نے رپورٹ کے خلاف ذکیہ جعفری کی اپیل کو خارج کردیا جس کے بعد 2014 میں انہیں ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔ ذکیہ جعفری کے نمائندوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ذیلی عدالت نے سپریم کورٹ کی ہدایات کو نظر انداز کیا اور گواہوں کے دستخط کیے گئے بیانات پر غور نہیں کیا۔اس بابت گجرات ہائی کورٹ کا رویہ خاصہ معاندانہ تھا۔ پچھلے سال اس نے ذکیہ جعفری کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ گجرات فسادات کی دوبارہ جانچ نہیں ہوگی اوراس معاملہ میں کسی طرح کی تفتیش نہیں کرائی جائے گی۔
عدالتِ عظمیٰ سے اب یہ نوید آئی ہے کہ ذکیہ جعفری کی جانب سے گجرات فساد کے معاملہ میں نریندر مودی اور دیگر 59ملزمین کو کلین چٹ دینے والے نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی گئی ہے اور اس کی شنوئی 19 نومبر کو ہوگی۔ یہ دیکھنا خاصہ دلچسپ ہوگا کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے گجرات ہائی کورٹ میں حاصل کردہ کلین چٹ کا سپریم کورٹ میں کیا حشر ہوتا ہے؟ اس لیے کہ اب یہ معاملہ وزیراعظم کے خلاف ہے۔ عدالتِ عظمیٰ اگر جر?ت کا مظاہرہ کر کے پردھان سیوک کو کٹہرے میں کھڑا کردے تب تو استعفیٰ دینے کی نوبت آسکتی ہے۔ اس طرح کے کسی چمتکار کا امکان ویسے توبہت کم ہے لیکن پھر چمتکار تو چمتکار ہوتاہے جس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ خوف ودہشت کے موجودہ ماحول میں ذکیہ جعفری کی شکایت کا سماعت کے لیے منظور ہوجانا ہی ایک کمال ہے ورنہ پہلے شاہ جی کے معاملے میں تو کوئی سن کر ہی نہیں دیتا تھا۔ ایسے میں ایک طرف ظالموں کی ہمنوا آنگ سان سوچی اور عدالت سے فرارمنجو ورما کا کردار ہے اور دوسری جانب ذکیہ جعفری کی قابلِ ستائش استقامتہے کہ جو 18 سال سے نہایت طاقتور لوگوں کے خلاف حق و انصاف کی جنگ میں برسرِ پیکار ہے۔ ذکیہ جعفری کی بے مثالمستقل مزاجی پر بشیر بدر کا یہ شعر صادق آتا ہے?
جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading