مسجد نبویﷺ کے خطیب اور امام الشیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے اپنی والدہ کی نماز جنازہ 10 ذی الحجہ نماز فجر کے بعد بنفس نفیس پڑھائی۔
اس دوران وہ انتہائی دکھ اور کرب سے بھرے لہجے میں قرآت کر رہے تھے جس سے انہیں لاحق غم کی شدت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔
سوگ اور غم میں ڈوبی آواز میں اپنی والدہ کی نماز جنازہ کی امامت کے بعد سعودی عرب میں عوام نے بڑے پیمانے پر ان سے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے غم میں ڈوبی امام الحذیفی کی قرآت پر بڑے پیمانے پر ہمدردانہ تبصرے کیے ہیں۔ سماجی میڈیا پلیٹ فارم پر #علی_الحذیفی کے نام سے ہیش ٹیگ کو استعمال کرتے ہوئے صارفین ان کی مرحومہ والدہ کے لیے دعائے مغفرت کر رہے ہیں۔
ٹوئٹر پر ایک صارف نے اپنے تبصرے میں کہا ’’کہ الشیخ الحذیفی کی والدہ انتقال فرما گئیں۔ انہوں نے ان کی نماز جنازہ کی امامت کی، بہت حد تک وہ اپنے جذبات پر قابو پائے ہوئے تھے لیکن جب وہ اس آیت ﴿يَا أَيَّتُها النَّفسُ المطمئنةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ راضيةً مَرْضيَّةً فَادْخلي في عبادي وَادْخلي جنتي﴾”، پر پہنچے تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔