5شیوسینا کے 6 باغی ارکان پارلیمنٹ کے مستقبل کا فیصلہ آج، سپریم کورٹ میں اہم سماعت

ناندیڑ (ایجنسیز)مہاراشٹر کی سیاست میں شیوسینا کے 6 باغی ارکان پارلیمنٹ سے متعلق معاملے پر آج 27 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہونے جا رہی ہے۔ اس معاملے پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ عدالت کی کارروائی کا اثر متعلقہ ارکان پارلیمنٹ کی سیاسی حیثیت اور مہاراشٹر کے موجودہ سیاسی حالات پر پڑ سکتا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق، سپریم کورٹ میں جسٹس پی نرسمہا کی سربراہی والی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے گروپ) کے رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے لوک سبھا اسپیکر کے ایک اہم فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں عرضی داخل کی ہے۔

عرضی میں باغی ارکان پارلیمنٹ کی اہلیت اور ان کے خلاف کارروائی کے معاملے میں لوک سبھا اسپیکر کے موقف پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ ٹھاکرے گروپ نے اسپیکر کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے اس معاملے میں قانونی مداخلت کی درخواست کی ہے۔

یہ تنازع شیوسینا میں ہوئی تقسیم سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ پارٹی میں بغاوت، ارکان پارلیمنٹ کی وفاداری اور انحراف سے متعلق قانونی پہلوؤں کے باعث یہ معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس مقدمے میں عدالت کے سامنے یہ سوال بھی اہم ہوگا کہ اسپیکر کے فیصلے کو قانونی طور پر کس حد تک چیلنج کیا جا سکتا ہے اور متعلقہ ارکان کی اہلیت کے معاملے میں قانونی تقاضے کیا ہیں۔

سیاسی مبصرین کی توجہ اس بات پر ہے کہ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کیا پیش رفت ہوتی ہے اور عدالت اس معاملے میں کیا رخ اختیار کرتی ہے۔ تاہم، سماعت کے بعد فوری طور پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے آئے گا یا نہیں، اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شیوسینا کی تقسیم کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان پارٹی کی شناخت، سیاسی اختیار اور ارکان کی اہلیت سے متعلق تنازعات مختلف قانونی فورموں پر زیر بحث رہے ہیں۔ اب سپریم کورٹ میں ہونے والی اس اہم سماعت سے متعلقہ قانونی معاملے میں آئندہ کی کارروائی کی سمت واضح ہونے کی توقع ہے۔