الیکشن کی تمام تر تیاریاں مکمل، پولس انتظامیہ بھی پرامن انتخابات کیلئے مستعد، ایم آئی ایم بھی میدان میں
دھولیہ:8ڈسمبر(عامر ایوبی) آج دھولیہ میونسپل کارپوریشن کے عام انتخابات کیلئے کل بروزاتوار9ڈسمبر کورائے دہی کا آغاز صبح سات بجے سے ہوگا اور 355 امیدواروں کی قسمت بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں بند ہوگی اس الیکشن میں کئی پرانے اور کئی نئے چہرے امیدواری کررہے ہیں شہر کے ایم ایل اے انیل انا گوٹے کے عجیب و غریب فیصلوں اور ایم آئی ایم کے پہلی دھولیہ الیکشن میں حصہ لینے پر الیکشن دلچسپ موڑ میں داخل ہوچکا ہے۔آج کے ہونے والے انتخاب کی تمام تر سرکاری تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں ای وی ایم مشینوں کو سیاسی پارٹیوں کے نمائندگان کے سامنے مہر بند کردیا گیا ہے 19 حلقوں میں پولنگ بوتھ بنائے جا کے ہیں سرکاری دفاتر بالخصوص اسکولوں میں پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں ضعیف العمر رائے دہندگان اور خواتین کیلئے خصوصی انتظام دیکھنے کو ملے۔پرامن ماحول میں الیکشن کے انعقاد کو لیکر حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے پولس انتظامیہ بھی اس ضمن میں مستعدی کا مظاہرہ کررہی ہے کل حساس علاقوں میں پولس نے پیدل گشت بھی کیا وہیں پولنگ بوتھ پر بھی سخت انتظامات کئے گئے ہیں اس کام میں ہوم گارڈز کی مدد بھی لی گئی ہے جبکہ اطراف کے علاقوں سے بھی پولس طلب کی گئی ہے۔الیکشنی انتظامات کیلئے مقامی انتظامیہ دل کھول کر خرچ کر رہی ہے پورے الیکشن میں دو کروڑ روپیہ سرکاری خرچ کا اندازہ ماہرین نے لگایا ہے یہ پیسہ بیت المال یعنی عوام سے وصول کردہ گھر پٹی و نل پٹی و دیگر ٹیکسس کی جمع شدہ رقم سے لگایا جائے گا رقم کی غیر ضروری مد میں لگائے جانے پر سنجیدہ افراد نے تنقید بھی کی ہے۔میونسپل کمشنر کے حکمنامہ کے مطابق سوئیس اردو پرائمری اسکول فردوس نگر کے طلبہ و طالبات اوراساتذہ کی عوامی بیداری ریلی کاانعقاد کیا ریلی کا آغاز اسکول ھذا کی صدر معلمہ حجن صوفیہ بانو نے ہری جھنڈی دکھائی ریلی میں طلبہ و طالبات نے مختلف نعرے لگائے ساتھ ہی ساتھ اساتذہ نے بھی دوران ریلی عوام کو ووٹ کی اہمیت کی معلومات دے کر قابل امیدوار کو ووٹ دینے کی گزارش کی ریلی کا اختتام محلے کی مختلف گلیوں سے گزرنے کے بعد اسکول میں ہوا۔
ایم آئی ایم بھی میدان میں:دھولیہ کارپوریشن الیکشن میں پہلی مرتبہ مجلس اتحاد المسلمین(ایم آئی ایم) بھی قسمت آزمائی کررہی ہے یہاں پارٹی نے اٹھارہ امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے جس میں دو غیر مسلم بھی شامل ہیں حالانکہ پارٹی کے امیدواروں کی تشہیر کیلئے کوئی بڑا چہرا سامنے نہیں آیا اس کے باوجود ایم آئی ایم یہاں کھاتہ کھولنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں اس پر سب کی نگاہیں جمی ہوئی ہیں۔