مالیگاؤں(عامر ایوبی) ہر نئے سال کی آمد سے قبل اس سال کتنی سرکاری چھٹیاں ہونگی اسے ظاہر کیا جاتا ہے اس مرتبہ بھی سال 2019 کی سرکاری چھٹیوں کا جی آر جاری کردیا گیا ہے جس میں غیر مسلم قومی رہنماؤں کی یوم پیدائش پر سرکاری چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اس میں مسلم رہنماؤں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے یاد رہیکہ ملک کی آزادی کے لیے مسلمانوں اور علمائے کرام کی قربانیوں کا ذکر کرنا سورج کو چراغ دکھانے کی مصداق ہوگا لیکن موجودہ حکومت چن چن کر مسلم رہنماؤں کی خدمات کو فراموش کررہی ہے نئی نسل کو اپنے رہنماؤں سے آشنا کرانے کا یہ بہترین ذریعہ ہیکہ اس دن سرکاری طور پر تعطیل دی جائے تاکہ بچوں کو پتا چل سکے کہ یہ کون ہیں اور انکی ملک کے تئیں کیا خدمات رہی ہیں لیکن افسوس کا مقام ہیکہ ہم بھی اپنے اسلاف کو یاد نہیں کرتے اس ضمن میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے ریاستی جنرل سکریٹری ساجد نثار احمد نے بتایا کہ ریاستی حکومت کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 3 دسمبر 2018 کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں 1981 قانون کی قلم 25 کے تحت سال 2019 کی 21 سرکاری چٹھیاں ظاہر کی گیں ہیں گذشتہ سالوں کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے افسر شاہی کی وجہ سے امسال بھی مسلم سماج کے تاریخی عظیم رہنما جہنوں نے بھارت ملک کے لئے بے شمار قربانیاں پیش کرتے ہوئےتمام مذاہب کے خدمات کی ایسے عظیم رہنما بالخصوص ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد، سر سید احمد خان، سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے،پی جے،عبدالکلام کا نام شامل نہیں کیا گیا ہے جو کہ بڑی ناانصافی کے مترادف ہے اساتذہ و طلباء کے لئے متحرک تنظیم اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ نے حکومت سے سرکاری چھٹیوں کی فہرست میں مسلم رہنما کے نام بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے گذشتہ سال بھی اس ضمن میں تنظیم کی جانب سے نمایندگی کی گئی تھی سرکاری نوٹیفکیشن میں تبدیلی کرتے ہوئے مسلم رہنما کے نام بھی شامل کیا جائے تاکہ ان کی یوم پیدائش یا یوم وفات پر لوگوں کو ان کی تعلیمات کامزید علم ہوگا اور قومی یک جہتی کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہو گا اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ نے مطالبہ کیا ہے