سورت، 30 اپریل (یو این آئی) گجرات میں سورت کی ایک عدالت نے جیل میں قید متنازعہ خود ساختہ دھرم گرو آسا رام باپو کے بیٹے نارائن سائی کو آبروریزی اور غیر فطری جنسی عمل کے ایک سنسنی خیز معاملے میں آج عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
عدالت نے گزشتہ 26 اپریل کو عدالت نے انہیں مجرم قرار دیا تھا۔ اس کیس کے تین دیگر ملزمان اور آسا رام کے پیروکاروں گنگا اور جمنا نام کی دو خواتین اور ہنومان نام کے ملزمان کو دس- دس سال قید کی سزا اور پانچ -پانچ ہزار کے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ سائی کی گاڑی چلانے والے رمیش ملہوترا نام کے پانچویں ملزم کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تمام ملزمان 60 دن کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔ آج سزا کے نکات پر سماعت کے دوران مدعا علیہان نے کم سے کم سزا دینے کی اپیل کی جبکہ استغاثہ نے زیادہ سے زیادہ سزا اور 25 لاکھ کے جرمانہ کی مانگ کی تھی۔
سیشن جج پرتاپدان گڑھوی کی عدالت نے اس معاملے نارائن سائی کے علاوہ دو خواتین سمیت چار معاون ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا تھا اور چھ دیگر کو بری کر دیا تھا۔ ان لوگوں نے مذکورہ معاملے میں مبینہ طور پر سائی کی مدد کی تھی۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ دیگر چار ملزمان میں گنگا اور جمنا نام کی دو خواتین اور ہنومان نام کے ساتھی اور سائی کی گاڑی چلانے والے ملہوترا کو قصوروار ٹھہرایا تھا جبکہ کل 11 میں سے چھ دیگر ملزمان کو بری کر دیا تھا۔