جمنانگر: ملک کے ساتھ ہریانہ، پنجاب اور چنڈی گڑھ میں سی اے کے خلاف احتجاج و مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اس حوالہ سے کئی اہم پروگرام منعقد ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا ایک وفد نے گورنر پنجاب سے ملاقات کی اور انہیں بتایا ہے کہ پورا ملک اس کالے قانون کے خلاف ہے۔
جمنا نگر سے آمدہ اطلاعات میں بتایاگیا ہے کہ مجلس احرار کے زیر اہتمام ملک بچاؤاور آئین بچاؤ کے عنوان سے شہر چھچھرولی میں اجلاس عام منعقد ہوا ،جس میں پاس کردہ تجاویز پر پر مشتمل میمورنڈم تحصیل دار کے حوالہ سے صدر جمہوریہ کو بھیجا گیا۔ اس موقع پر بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد بھی موجود رہے۔
چندر شیکھر نے کہا کہ دستور ہند ہندوستانیوں کے لیے بہت ہی اہم چیز ہے۔ اس گرانقدر چیز کی حفاظت ہم سب کو مل کر کرنی ہے۔انھوں نے کہا آئین کی اصل روح یہی ہے کہ یہاں کسی مذہب اور ذات کے نام پر لوگوں کو نہیں تقسیم کیا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا مسلمانوں کے ساتھ مذہب کے نام پر اور دلتوں کے ساتھ ذات کے نام پر جو تعصب کا بیج آر ایس ایس کے اشارہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی بو رہی ہے ،ہم اس کو سمجھتے ہوئے ،قدم بڑھانا ہوگا، تاکہ آئین پر ٹکی ہوئی غلط نگاہوں کو موڑا جا سکے۔
چندر شیکھر آزاد نے کہا بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر پرمولانا آزاد کا بڑا احسان ہے، جنھوں نے اس آئین سازی میں ساتھ دیا تھا۔ اس کا تقاضہ ہے کہ مسلم اور دلت مل جل کر اس آئین کی حفاظت کے لیے آگے آئیں۔ یہ وقت متحد ہوکر آگے بڑھنے کا ہے۔ انھوں نے کہا آج ملک اور آئین کو قربانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں آئین بچانے اور بھائی چارہ برقرار رکھنے کی کوشش کرنی ہے، یاد رکھنا یہ کام کسی سیاسی پارٹی کے بھروسے مت چھو ڑنا۔

پروگرام میں پہنچے سابق نائب اسپیکر چودھری اکرم خان نے کہا ایوان میں پہنچ کر آئین بچانے کی مہم کی آواز اٹھائی جائے گی۔ انھوں نے اس قانون کی مخالفت کی اورصحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا حکومت لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام کر رہی ہے، بھارت مہاتما گاندھی کے اصولوں پر آگے بڑھے گا، نہ کہ نفرت اور پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی پالیسی پر۔
خانقاہ بوڑیہ کے سربراہ حافظ حسین احمد قادری مجددی نے کہا ہندوستان میں یکساں سول کوڈ قطعی منظور نہیں ہے۔انھوں نے کہا سماج اور مذاہب کے درمیان دیوار کھینچنے والا قانون منظور نہیں ہے۔ جرنیل سنگھ سانگوان نے کہا بھارت کے اتحاد اور مضبوطی ہندو مسلم سکھ عیسائی اتحاد سے ہی ہمارے آئین کی اصل روح نکلی ہے، ہمیں اس کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔
بھیم آرمی ہریانہ کے صدر کمل براڈا، محبوب چودھری اور شہنشاہ وغیرہ نے بھائی چندر شیکھر راون کو تلوار دے کر آئین بچانے کی جنگ میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔نظامت ولی شمالی ندوی نے کی اور کہا ہندوستانی سماج کو توڑنے اور ہمیں آپس میں بانٹنے والی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ قاری سعید الزماں نے کہاہم بھارت کے لوگ ہیں اور ہمیں بھارتی ہونے پر فخر ہے، یہ ہم نے اس وقت بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا ہے جب ہمارے سامنے ایک آپشن موجود تھا، اگر اس وقت ہمارے باپ دادا چاہتے تو وہ تقسیم کے وقت اس اختیار کو منتخب کر سکتے تھے۔
سنجیو والیہ نے کہا ہمارا آئین ہمارے ملک کی روح ہے ۔ہم اس پر چوٹ نہیں ہونے دیں گے۔ عوام کے ووٹ لے کر جو پارٹیاں حکومت بناتی ہیں، ان کوعوام کے مسائل روزگار، تعلیم، صحت، مہنگائی، کرپشن، سیکورٹی وغیرہ کے لیے کام کرنا چاہیے تھا، لیکن بجائے اصل مسائل کو حل کرنے کے ہمیں سی اے اے، این پی آر اور این آر سی جیسی ذیلی چیزوں میں الجھایا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا جن کو ہم نے چُن کر پارلیمنٹ میں بھیجا ہے، آج وہی لوگ ہمارے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ہماری شہریت پر شبہ کر رہے ہیں۔ منشی مہندی حسن نے کہا یہ کنونشن جو آئین کو بچانے اور ملک کو بچانے کی قسم کھاتا ہے اور ساتھ ہی سی اے اے، این پی آر اور این آر سی لو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتاہے، کیونکہ یہ ہندوستانی آئین کی اصل روح کے خلاف ہے۔اس موقع پر راؤ مجید، لیاقت علی، حاجی عبدالرشید ،عمردین، حافظ مستقیم، حافظ لعل دین وغیرہ موجود رہے۔



یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو