نہ مٹن، نہ چکن، یہاں تک کہ انڈے بھی نہیں ملتے — یہ ہے دنیا کا پہلا سبزی خور (ویجیٹیرین) شہر

دنیا بھر میں اب گوشت کھانے والوں کے مقابلے میں سبزی خور افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ سبزی خور کھانا جسم کے لیے زیادہ موزوں اور مفید ہوتا ہے۔ کورونا وبا کے بعد سے لوگوں کا رجحان خاص طور پر سبزی خوری کی طرف بڑھا ہے۔ صحت کے لحاظ سے بھی مانا جاتا ہے کہ سبزی خوری ہمیشہ گوشت خوری سے بہتر ہے۔
ایسے میں اب بھارت کا ایک شہر دنیا کا پہلا "سبزی خور شہر” قرار دیا گیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کون سا شہر ہے یہ —

ریاست گجرات کے پالیتانا (Palitana) شہر میں گوشت، مچھلی اور انڈے کی فروخت و استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ضلع بھاونگر کے اس شہر میں اب صرف خالص سبزی خور کھانے دستیاب ہوں گے۔ پالیتانا کو دنیا کا پہلا مکمل سبزی خور شہر قرار دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ جین سنتوں کے احتجاج کے بعد کیا گیا۔ نان ویج کھانے پر مکمل پابندی کے بعد یہ شہر عالمی سطح پر چرچا میں آ گیا ہے۔ پالیتانا جین برادری کا ایک اہم مذہبی و روحانی مقام ہے، جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے لاکھوں جین عقیدت مند آتے ہیں۔ اس فیصلے کے پیچھے جین مذہب کی مذہبی عقیدت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔

پالیتانا احمدآباد سے تقریباً ۳۸۱ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں سڑک کے راستے پہنچنے میں تقریباً سات گھنٹے لگتے ہیں۔ جین تِیرتھ کے اس شہر میں نان ویج پر پابندی کے لیے ۲۰۱۴ میں تقریباً ۲۰۰ جین سنتوں نے ۲۵۰ گھنٹوں کا طویل بھوک ہڑتال کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ قصاب خانے بند کیے جائیں۔ جین مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے حکومت نے گوشت، انڈے کی فروخت اور جانوروں کے ذبح پر پابندی لگا دی۔ اس کے ساتھ ہی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے جرمانے کی بھی شرط رکھی گئی۔ حکومت کا یہ فیصلہ جین برادری کی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔

نان ویج پر پابندی کے بعد پالیتانا میں متعدد سبزی خور ریستوران کھل گئے ہیں جہاں مختلف اقسام کے ویجیٹیرین کھانے دستیاب ہیں۔ پالیتانا شہر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ہے۔ ۲۰۰۲ میں یہ علاقہ اسمبلی حلقہ کے طور پر قائم ہوا اور تب سے یہاں بی جے پی ہی کامیاب ہوتی آ رہی ہے۔ یہاں سے منتخب رکنِ اسمبلی مرکزی کھیلوں کے وزیر منسکھ مانڈویا ہیں، جو ۲۰۰۲ سے مسلسل کامیابی حاصل کرتے آ رہے ہیں۔

پالیتانا کی سب سے اہم پہچان جین مذہب کا مقدس شترُنجیہ پہاڑ ہے، جہاں ۹۰۰ سے زائد سفید سنگِ مرمر کے مندر قائم ہیں — جو دنیا کا سب سے بڑا اور منفرد جین مذہبی کمپلیکس مانا جاتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading