طلبہ کو مارپیٹ اور چیٹنگ پر پابندی، خلاف ورزی پر سخت کاروائی اساتذہ اور ہیڈ ماسٹروں کے لیے نئی ہدایات جاری

ممبئی:15/ دسمبر ۔( ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر حکومت نے اسکولی طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اسکولوں میں ایسا ماحول قائم کرنے کے مقصد سے ایک نہایت اہم سرکاری حکم جاری کیا ہے جس میں طلبہ خود کو محفوظ اور خوشگوار محسوس کریں۔ طلبہ کے حقوق کے تحفظ اور تعلیمی اداروں میں محفوظ فضا کو یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب ریاست بھر کے تمام اسکولوں میں اساتذہ اور عملے کے لیے سخت ضابطے نافذ کر دیے گئے ہیں، اور طلبہ کے ساتھ عزت و احترام اور حساسیت کے ساتھ پیش آنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت نے اس نئے سرکاری حکم میں تعلیمی حق قانون (RTE) کے موجودہ ضابطوں پر ایک بار پھر زور دیا ہے۔ یہ حکم تعلیمی حق قانون 2009 کی دفعہ 17 کی شقوں کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ اس کے مطابق اب طلبہ کو کسی بھی قسم کی جسمانی سزا، مارپیٹ، ذہنی اذیت، ہراسانی یا تذلیل کرنا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ اس طرح اساتذہ، ہیڈ ماسٹرز یا کنٹریکٹ پر کام کرنے والے کسی بھی ملازم کو طلبہ کو سزا دینے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔

تصاویر اور پیغامات سے متعلق سخت قوانین

اس کے ساتھ ساتھ طلبہ پر طنز کرنا، گالی گلوچ کرنا، ان کی توہین کرنا یا ایسا کوئی ذہنی دباؤ ڈالنے والا رویہ اختیار کرنا جس سے احساسِ کمتری پیدا ہو، سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ تعلیمی کارکردگی، ذات، مذہب، جنس، زبان، معذوری یا سماجی و معاشی حیثیت کی بنیاد پر طلبہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیاز کرنا بھی جرم تصور کیا جائے گا۔ یہ ضابطے اساتذہ، ہیڈ ماسٹرز کے ساتھ ساتھ عارضی اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے تمام ملازمین پر یکساں طور پر لاگو ہوں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading