خصوصی رپورٹ
سیّد اکبر زاہد
تمل ناڈو میں ووٹر فہرست سے 97 لاکھ نام خارج — اصلاح یا خدشہ؟
تمل ناڈو میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر فہرست کی خصوصی نظر ثانی ’’ایس۔آئی۔آر‘‘ کے پہلے مرحلے کے بعد ۹۷ لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے نام خارج کردئے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس فہرست میں تقریباََ ۲۷ لاکھ نام انتقال کرجانے والوں کے ہیں، ۶۶ لاکھ وہ افراد جو ریاست سے نقل مکانی کرچکے ہیں اور تین لاکھ چالیس ہزار دہری رجسٹریشن کے معاملات شامل ہیں۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ ایک آئینی و معمول کی کارروائی ہے، جس کا مقصد ووٹر لسٹ کو درست اور شفاف بنانا ہے۔
تاہم سیاسی منظرنامہ اس وضاحت سے مطمئن نظر نہیں آتا۔
سب سے زیادہ کٹوتی چنئی میں ہوئی ہے جہاں ۱۴ لاکھ پچیس ہزار ووٹروں کے نام فہرست سے نکالے گئے، جس کے بعد دارالحکومت میں اہل ووٹروں کی تعداد گھٹ کر ۲۶ لاکھ رہ گئی ہے۔
کوئمبتور،، کانجی پورم اور دنڈیکل جیسے اضلاع میں بھی بڑے پیمانے پر نام حذف کئے گئے ، جن کا براہِ راست اثر ان حلقوں پر پڑ سکتا ہے جہاں سیاسی مقابلہ سخت ہے۔
حزبِ اختلاف، خصوصاََ ’’ڈی۔ایم۔کے۔۔کانگریس اتحاد‘‘ نے اس عمل کو ’’انتخابی انجینئرینگ‘‘ قرار دیا ہے جبکہ اے۔آئی ڈی ایم کے اور بی جے پی نے اس ضروری اصلاح کہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اداکار سیاست دن وجے کی جماعت ٹی۔وی۔کے نے بھی اختلافات کے باوجود اس نظرِ ثانی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ جن ووٹروں کے نام خارج ہوئے ہیں وہ ۱۸ جنوری تک اعتراض اور دعویٰ داخل کرسکتے ہیں اور کسی اہل شہری کو حقِ رائے دہی سے محروم نہیں کیا جائےگا۔
یہ معاملہ صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ اعتماد کا ہے۔
اگر ووٹر کو یہ خوف لاحق ہو کہ اس کا نام خاموشی سے مٹا دیا جائے گا تو جمہوریت کمزور ہوتی ہے، چاہے نیت کتنی ہی درست کیوں نہ ہو۔!
حزبِ اختلاف، خصوصاًی نے اسے ضروری اصلاح کہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اداکار سیاست دان وجے کی جماعت TVK نے بھی، اختلافات کے باوجود، اس نظرثانی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ جن ووٹروں کے نام خارج ہوئے ہیں، وہ 18 جنوری تک اعتراض اور دعویٰ داخل کر سکتے ہیں، اور کسی اہل شہری کو حقِ رائے دہی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
یہ معاملہ صرف اعداد و شمار کا نہیں، بلکہ اعتماد کا ہے۔
اگر ووٹر کو یہ خوف لاحق ہو کہ اس کا نام خاموشی سے مٹا دیا جائے گا، تو جمہوریت کمزور ہوتی ہے — چاہے نیت کتنی ہی درست کیوں نہ ہو۔
۔۔