ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز)ناندیڑ میونسپل کارپوریشن انتخابات 2026 کے پیشِ نظر شہر کی سیاست میں غیر معمولی گہماگہمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ انتخابی عمل کا باقاعدہ آغاز 23 دسمبر سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے مرحلے سے ہوگا، جس کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہونے کے آثار ہیں۔
انتخابی شیڈول کے مطابق 23 دسمبر سے 30 دسمبر تک امیدوار اپنے نامزدگی فارم داخل کر سکیں گے، 31 دسمبر کو نامزدگی فارموں کی جانچ پڑتال ہوگی، 2 جنوری 2026 تک نام واپس لینے کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے جبکہ 3 جنوری کو امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کیے جائیں گے۔ ووٹنگ 15 جنوری 2026 کو ہوگی۔
تمام بڑی جماعتیں الگ الگ میدان میں
پرچہ نامزدگی سے قبل ہی یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ کانگریس (مہاویکاس اگھاڑی)، بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹروادی کانگریس پارٹی (اجیت پوار)، مجلس اتحادالمسلمین، شیوسینا (شندے گروپ) اور شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے – یو بی ٹی) ‘ونچت بہوجن اگھاڑی اپنے اپنے بل بوتے پر الیکشن لڑنے کی تیاری میں ہیں۔ کسی بڑے انتخابی اتحاد کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے، جس سے مقابلہ کافی دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔
مسلم وارڈوں میں سب سے زیادہ بے چینی
انتخابی منظرنامے میں سب سے زیادہ تشویش مسلم وارڈوں کے مسلم امیدواروں اور ووٹروں کے درمیان دیکھی جا رہی ہے۔واڈوں کی تشکیل بھی کچھ عجیب و غریب دی گئی ہے۔ 20ہزار تا30ہزار ووٹرز پر مبنی ایک پربھاگ ہے۔ہر پربھاگ سے چار اُمیدوار الیکشن کریں گے ۔ اسلئے لیڈران میں بے چینی وتشویش پائی جاتی ہے۔
خاص طور پر کانگریس پارٹی کا موجودہ موقف پہلے جیسا مضبوط نظر نہیں آ رہا۔ اگرچہ پارٹی کے پاس ناندیڑ ضلع سے ایک رکنِ پارلیمنٹ موجود ہے، لیکن حالیہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی خاصی مایوس کن رہی اور ضلع میں پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اشوک راو چوہان کے بعد کانگریس کمزور
سیاسی مبصرین کے مطابق اشوک راو چوہان کے دور کو ناندیڑ میں کانگریس کا سنہرا دور مانا جاتا تھا، مگر ان کے بی جے پی میں شمولیت کے بعد کانگریس کی تنظیمی طاقت میں واضح کمی آئی ہے۔ یہ حقیقت خود کانگریس کے کئی قائدین بھی تسلیم کر رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ کانگریس کے بیشتر غیر مسلم عہدیداران پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں اشوک راو چوہان کے زیرِ سایہ شامل ہو چکے ہیں۔
مسلم ووٹر اور قائدین تذبذب کا شکار
کانگریس میں مضبوط مسلم قیادت کے فقدان کی وجہ سے مسلم ووٹر اور مسلم قائدین بھی تذبذب کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب پارٹی کے پاس ایک مضبوط “مینجمنٹ گروپ” موجود تھا، لیکن اب وہ قیادت دکھائی نہیں دیتی، جس کے باعث کانگریس کے مسلم امیدواروں میں بھی عدم اطمینان پایا جا رہا ہے۔
کانگریس میں انٹرویوز، سابق کارپوریٹرس غیر حاضر
آج کانگریس دفتر میں ناندیڑ میونسپل کارپوریشن انتخابات کے خواہشمند امیدواروں کے انٹرویوز لیے گئے، تاہم اس موقع پر بیشتر سابق کارپوریٹرس کی غیر حاضری نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس صورتحال سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کانگریس کے سیاسی حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
مجلس میں شمولیتوں کا سلسلہ جاری
دوسری جانب مجلس اتحادالمسلمین میں کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں سے مسلم قائدین کی شمولیت کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اس کے اثرات ناندیڑ کی انتخابی سیاست پر واضح طور پر نظر آ سکتے ہیں۔
این سی پی (اجیت پوار) میں بھی تذبذب
راشٹروادی کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) کے مسلم قائدین بھی موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے تذبذب میں مبتلا دکھائی دے رہے ہیں۔ واضح حکمتِ عملی کے فقدان کی وجہ سے پارٹی کے اندر بھی بے چینی پائی جا رہی ہے۔
30 دسمبر تک بڑی تبدیلیوں کے امکانات
مجموعی طور پر سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ 30 دسمبر 2025 تک ناندیڑ کی سیاست میں کئی اہم تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ پرچہ? نامزدگی کے مرحلے کے بعد یہ بات مزید واضح ہو جائے گی کہ کون سی جماعت کس حد تک مضبوط پوزیشن میں ہے اور مسلم وارڈوں میں ووٹروں کا جھکاوکس طرف جاتا ہے۔