پولیس کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام ، جج کا تاثر
حیدرآباد۔ 23 اکتوبر (سیاست نیوز) ”ہیرا گولڈ گروپ“ کی مینیجنگ ڈائریکٹر نوہیرہ شیخ کو پولیس تحویل میں دینے سے متعلق سی سی ایس کی درخواست پر مباحث مکمل ہوگئے ہیں۔ میٹرو پولیٹن سیشن جج نے اس درخواست پر فیصلہ 24 اکتوبر تک کیلئے محفوظ کردیا ہے۔
سنٹرل کرائم اسٹیشن (سی سی ایس) پولیس کو آج اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سیشن جج نے ہیرا گولڈ گروپ پر نافذ کئے گئے تلنگانہ ڈپازیٹرس ایکٹ پر سوال اُٹھائے۔ جج نے تحقیقاتی عہدیداروں سے سوال کیا کہ کس بنیاد پر نوہیرا شیخ کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا جبکہ اب تک کی تحقیقات سے ملزمہ کے خلاف ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔ جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہیرا گولڈ گروپ جو رجسٹرار آف کمپنیز ایکٹ کے دائرہ کار میں آتا ہے، تو پھر کس بنیاد پر ڈپازیٹرس ایکٹ کے تحت کیس بنایا گیا۔ میٹرو پولیٹن سیشن جج نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ اس کیس میں درخواست گذار کے علاوہ تمام گواہوں کے بیانات محض بے وزن اور کھوکھلے ہیں۔ اسی دوران وکیل دفاع ونیت دندا نے عدالت کو واقف کروایا کہ ان کی موکلہ نوہیرا شیخ کے خلاف پولیس کی کارروائی سیاسی مخاصمت کا نتیجہ ہے اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کی محض ایک سازش ہے۔ وکیل دفاع نے عدالت سے مزید کہا کہ مجلس اتحادالمسلمین پارٹی اور اس کے سربراہ اسدالدین اویسی کی جانب سے جھوٹا پروپگنڈہ کے نتیجہ میں سرمایہ داروں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے اور یہی بات ایف آئی آر درج کرنے کی وجہ بنی ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ ہیرا گولڈ گروپ کے سینکڑوں سرمایہ دار ہنوز اس گروپ پر اعتماد کرتے ہیں اور غلط بیانی اور جھوٹے پروپگنڈہ کے سبب سینکڑوں سرمایہ داروں کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔ پولیس تحویل میں دینے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ونیت دندا نے عدالت سے کہا کہ سی سی ایس پولیس نے سال 2012ءمیں بھی اسی قسم کا ایف آئی آر درج کیا تھا جس میں اسدالدین اویسی درخواست گذار ہیں جبکہ پولیس اب تک کی تحقیقات میں ان کی موکلہ (نوہیرہ شیخ) کو قصوروار ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی دوران سرکاری وکیل نے اس بات پر زور دیا کہ گرفتار ملزمہ کو 10 دن کی پولیس تحویل میں دیا جائے تاکہ اس کیس کی تفصیلی تحقیقات کی جاسکے چونکہ دھوکہ دہی کی غرض سے مذکورہ گروپ نے سرمایہ داروں کو گزشتہ کچھ عرصہ سے منافع ادا نہیں کیا۔ جج نے وکیل دفاع اور سرکاری وکیل کے مباحث مکمل ہونے کے بعد پولیس تحویل اور ضمانت پر اپنا فیصلہ 24 اکتوبر کیلئے محفوظ کردیا۔

