سلفی مسلک کو پارلیمنٹ میں دہشت گرد کہنے پر مولانا بدرالدین اجمل کی معذرت

نئی دہلی: 28 ڈسمبر. 2818 . (ورق تازہ نیوز)

آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یوڈی ایف) کے سربراہ اورلوک سبھا ممبرمولانا بدرالدین اجمل نے لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پربحث کے دوران مسلمانوں کی ایک جماعت کو دہشت گردی سے جوڑدیا تھا۔ انہوں نے کل سلفی مسلک کے بارے میں کہا کہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ وہ لوگ ملک میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔

کل کے بیان پر آج بدرالدین اجمل نے ایک معذرت نامہ بذریعہ پریس نوٹ میڈیا کو بھیجا. جس میں اپنے بیان پر معافی مانگتےہوئے اجمل نے کہا کہ "پارلیمنٹ میں میں نے سلفی بھائیوں کے تعلق سے غیر متعلقہ بات کہہ دی جس پر مجھے بے حد افسوس ہے. میری نیت وہ بالکل بھی نہیں تھی وہ بات غلطی سے زبان سے ادا ہوگئی. اس لئے میں اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں دئیے گئے بیان سے معذرت کیساتھ رجوع کرتا ہوں”

انھوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ سے بھی اس تقریر کو حذف کرنے کیلئے کہا ہے جو انشا اللہ جلد ہی ہٹالی جائیگی.

مکمل معذرت نامہ یہاں پڑھ سکتے ہیں.

دراصل مولانا بدرالدین اجمل سے قبل بی جے پی ممبرپارلیمنٹ میناکشی لیکھی نے قرآن اورکچھ اسلامی کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے حنفی اورسلفی مسلک کی بات کی تھی۔ اس پرمولانا اجمل نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل شریعت میں مداخلت ہے، اس لئے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے میناکشی لیکھی کومتوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جن کتابوں کا حوالہ دیا ہے، اس کو صرف 10 فیصد لوگ مانتے ہیں اوروہ اسلام میں مداخلت کرتے ہیں۔مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ ہم سلفیوں کے ساتھ نہیں ہیں، ہم ان کے عقیدے کونہیں مانتے ہیں۔ کیونکہ حکومت ہند نے دہشت گرد قراردے دیا ہے۔ آج پورے ہندوستان میں سلفی مسلک دہشت گردی کرارہا ہے، جوباربارثابت ہورہا ہے۔ میں اس بات کو تسلیم نہیں کروں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب میں آپ سے اکیلے میں ملاقات کروں گا توآپ کو بتاوں گا کہ آپ کو کونسی کتاب پڑھنی چاہئے۔ اس کے جواب میں میناکشی لیکھی نے کہا کہ آپ قرآن کی آیت بتادیجئے، اس پرمولانا اجمل نے کہا کہ میں اس پربھی ڈیبیٹ کے لئے تیارہوں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading