وویک اوبرائے نے مودی کی جم کی تعریف کی‘ پڑھئے کیاکہا

نئی دہلی،21مئی.اداکار ویویک اوبرائے نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی پر بڑے پیمانے پر لگائے گئے عدم رواداری کے الزامات ان کے (مسٹر مودی کے)حق میں گئے ہیں اور ان سے پتہ چلا ہے کہ حقیقت میں وہ کتنے روادار ہیں۔ویویک نے یواین آئی سے بات چیت میں کہا،’’مجھے لگتا ہے کہ یہ تنقید ایک سچی جمہوریت کی علامت ہے۔ان باتوں نے صرف یہ ثابت کیا ہے کہ مودی کی حکومت سب سے روادار نظاموں میں سے ایک رہی ہے۔‘انہوں نے کہا،’’اس طرح کے الزام (عدم رواداری)اور بالی ووڈ سمیت مختلف پہلوؤں کی الگ الگ رائے سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی اس حکومت پر سبھی طرح کے الزام لگا سکتا ہے۔یہی سچی جمہوریت ہے۔جو بھی آپ کا نظر یہ ہے،آپ ظاہر کرسکتے ہیں۔اس سلسلے میں ویویک نے یہاں تک کہا،’’میں ایسے وزیراعظم کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے اس طرح کے الزام (عدم رواداری )لگانے والے لوگوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹائے۔‘‘

مسٹر مودی کی زندگی پر مبنی فلم ’پی ایم نریندرمودی‘کی پہلی اسکریننگ کے سلسلے میں پیر کو یہاں موجود ویویک نے کہا،’’کہا آپ نے اس معاملے میں کسی کے خلاف کوئی معاملہ درج ہوتے یا اسے پریشان کئے جانے ہوئے دیکھا ہے؟ مودی حکومت کے بارے میں دگج اداکار نصیرالدین شاہ سمیت مختلف اداکاروں کے نظریوں پر ردعمل پوچھے جانے پر ویویک نے کہا ،’’یہ ان کا حق ہے بھائی۔آپ بھی مودی جی کے خلاف دہلی میں احتجاجی مظاہرہ کرسکتے ہیں۔‘‘نصیرالدین شاہ نے کچھ ماہ پہلے مودی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے دور حکومت میں ملک بےحد عدم روادار بنتا جارہا ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں باضابطہ طورپر شامل ہوں گے یا پھر راجیہ سبھا کے رکن کے طورپر کوئی عہدہ حاصل کریں گے تو ویویک نے کہا،’’میں تھوڑا سا پاگل ہوں لیکن میں ہربات واضح طورپر کہتا ہوں یا جو کچھ سوچتا ہوں ،اس میں شاید ہی کوئی فرق ہوتا ہے۔مجھے مختلف پارٹیوں سے 2004سے سیاست میں شامل ہونے کی پیش کش آرہی ہیں،لیکن میں ہمیشہ ان سب سے دوررہاہوں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا،’’پارلیمانی انتخابات میں لڑنے کی تجویز علاقائی پارٹیوں اور قومی پارٹیوں سے بھی ملی ہیں۔ضمنی انتخابات کےلئے بھی ایسی ایک تجویز آئی تھی۔ہر بار میں نے کہا کہ نہیں،کیونکہ مجھے لگتا ہے،میں ایک سیاسی پارٹی کے نام نہاد تادیبی کوڈکو برقرار نہیں رکھ پاؤں گا۔میں کئی بار اپنی ہی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف بول سکتا ہوں۔‘‘یہ پوچھے جانے پر کہ مسٹرمودی کے دوبارہ وزیراعظم بننے پر اگلے پانچ برسوں میں انہیں کون سا بڑا کام کرتے ہوئے دیکھنا چاہیں گے توانہوں نے ،’’ایک عام آدمی کے طورپر میں کہوں گا کہ تعلیم کے ذریعہ سے خواتین کو اعلی سطح پر بااختیار بنانے کو یقینی بنانا ایک بڑا کام ہوگا۔‘‘17ویں لوک سبھا کےلئے ہوئے انتخابات کے پیش نظر اپوزیشن پارٹیوں نے وزیراعظم کی زندگی پر بنی فلم’پی ایم نریندرمودی‘کو ریلیز کرنے کی مخالفت کی تھی۔بی جےپی ہیڈکوارٹر میں پیر کو کئی مرکزی وزرا اور پارٹی لیڈروں کی موجودگی میں پیر کو فلم کی خصوصی اسکریننگ رکھی گئی۔فلم 24مئی کو سنیما گھروں میں ریلیز کی جائےگی۔
اداکار نے کہا،’’دوگھنٹے کی یہ فلم وزیراعظم کی پوری زندگی اور ان کے کاموں کو ظاہر نہیں کرسکتی ۔میریز فلم کوئی پروپگنڈا پھیلایا جارہا ہے۔ویویک نے اپوزیشن پارٹیوں پر طنز کرتے وہئے کہا،’’جنہوں نے میری تنقید کی اور ہماری فلم کی خلاف احتجاج کی انہیں اپنے کماوں اور سیاست پر بھروسہ نہیں ہے۔‘‘مہتاما گاندھی کی زندگی مبنی فلم کا ذکر کرتے ہوئے ویویک نے کہا’’مشہور فلم ساز ریچرڈ ایٹن برگ کاموں کی بھی تنقید کی جاتی ہےاور کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ کیونکہ نہیں دیکھایا ۔‘‘

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading