لکھنو¿،18مئی(پی ایس آئی)لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے میں پہنچ گیا ہے. اس کے ساتھ ہی 23 مئی کے ممکنہ نتائج کو لے کر ابھی سے جوڑ توڑ کی حکمت عملی پر کام بھی شروع کر دیا گیا ہے. کانگریس کی جانب سے حال ہی میں یہ اشارہ دیا گیا ہےکہ اگر اسے اتحاد میں پی ایم کا عہدہ حاصل نہیں ہوتاہے، تب بھی اسے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا. اگرچہ بعد میں کانگریس اپنے بیان سے پلٹ گئی. کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ کانگریس ملک کی سب سے پرانی سیاسی پارٹی ہے اور اگر 5 سال حکومت چلانا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے بڑی پارٹی کو ہی موقع ملنا چاہئے.
لیکن، کانگریس کے قربانی والے بیان نے کسی بھی جماعت کو اکثریت نہ ملنے کی صورت میں حکومت تشکیل کے اس مساوات کی بحث ضرور چھیڑ دی ہے.ایسے میں مانا جا رہا ہے کہ مرکز میں کرناٹک ماڈل پر حکومت بنانے کی فراق شروع ہو سکتی ہے. این ڈی اے سے الگ ہوئی تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے صدر چندرا بابو نائیڈو ہفتہ صبح راہل گاندھی سے ملنے دہلی پہنچے. یہی نہیں انکا لکھنو¿ میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی اور سماجوادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو سے بھی ملنے کا پروگرام ہے. اس دوران جے ڈی اےس کے سربراہ ایچ ڈی دیوگوڑا نے کانگریس کے ساتھ اختلافات کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کانگریس کو حمایت کے لئے تیار ہیں. ایسے میں قیاس آرائی کا دور شروع ہو گیا ہے. بتا دیں کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں نتائج کے دوران اپنی حکومت نہیں بنتے دیکھ کانگریس نے جے ڈی اےس کو حمایت دینے کا اعلان کر دیا تھا. اس کے بعد ایچ ڈی کمارسوامی ریاست کے وزیر اعلی بنے تھے.بتا دیں کہ کانگریس چاہتی ہے کہ تمام غیر این ڈی اے لیڈر نتائج سے پہلے ایک بار ملاقات کریں جبکہ مایا اور اکھلیش نے نتائج پہلے کسی بھی طرح کے جوڑ توڑ سے ابھی تک گریز کر رکھا ہے. وہیں، ذرائع کی مانیں تو نائیڈو دونوں رہنماو¿ں کو دہلی میں یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی کے گھر پر ہونے والی میٹنگ میں شامل ہونے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں.