آنسوبہانے والے یہ سمجھ ہی نہیں سکے کہ سماعت مراٹھی میں تھی یا انگریزی میں
یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں ایک الگ امیج بنانے کی کوشش کی جارہی ہے – سنیل تٹکرے
ممبئی:عدالت میں دلائل مراٹھی میں نہیں انگریزی میں ہوتے ہیں لیکن جو لوگ آنسو بہا رہے ہیں وہ یہ نہیں جان پا رہے کہ دلائل مراٹھی میں ہیں یا انگریزی میں۔ اسی لیے لوگوں میں ایک الگ طرح کی امیج بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ یہ باتیں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر وممبرپارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے کہیں ہیں۔ وہ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
تٹکرے نے کہا کہ کل کچھ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران پوار صاحب کا ذکر بے ادبی کے ساتھ کیا گیا۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیے گیے دلائل کا جب جائزہ لیا گیاتو معلوم ہوا کہ پوار صاحب کا ذکر ایک پیرا گراف میں کیا گیا ہے اور اس کا حوالہ پہلے کا ہے جسے وہاں پر پیش کیا گیا۔تٹکرے نے کہا کہ ہم بارہا اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ انگریزی میں ہم کسی کے متعلق بات کرتے ہوئے he said soکہتے ہیں۔ جبکہ مراٹھی میں اس کے لیے ’تے‘ لفظ ہے۔ اس لیے کچھ لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ شردپوار صاحب کا ذکر بے ادبی کے ساتھ ہوا ہے اور وہ آنسوبہانے لگے ہیں۔
سنیل تٹکرنے کہا کہ الیکشن کمیشن کے روبروسماعت جاری ہے، ہماری جانب سے دلائل دیے جارہے ہیں، ہم نے اپنی پٹیشن میں جو موقف اختیار کیا ہے وہ قانونی طور پر کس طرح مناسب ہے، ہماری جانب سے یہ پیش کرنے کی کوشش جاری ہے۔ آج کی سماعت میں اجیت پوار کی قیادت سے متعلق ہم نے جو فیصلہ کیا وہ کس طرح قانون کے مطابق ہے، اس کے دلائل دیے گئے۔
