NCP Urdu News 8 Nov 23

سپریاسولے سے متعلق سنیل تٹکرے کا بیان قابلِ مذمت ہے: نسیم صدیقی

ممبئی:این سی پی کے ترجمان نسیم صدیقی نے سنیل تٹکرے کے اس بیان کی سخت مذمت کی ہے جس میں انہوں نے سپریاسولے پر ذات پات کی تفریق کرنے کا الزام عائدکیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس پارٹی نے انہیں سب کچھ دیا آج وہ اسی پارٹی کے کارگزارصدر پر اس قدر گھٹیا الزام عائد کررہے ہیں، تٹکرے کو یہ الزام عائد کرنے سے قبل اس بات پر غور کرلیناچاہیے تھا کہ آج وہ جس مقام پر ہیں وہاں وہ کیسے پہنچے۔

منگل کو پارٹی دفتر میں نسیم صدیقی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنیل تٹکرکے کی جم کر خبرلی۔ انہوں نے کہا کہ جون میں پارٹی چھوڑکر جانے والوں سے متعلق پارلیمنٹ والیکشن کمیشن میں سماعت چل رہی ہے، لیکن آپ سب کو یہ بات معلوم ہوگی کہ محترمہ سپریاسولے نے پارلیمنٹ کے چیئرمین اوم برلا کو ایک مکتوب دیا ہے جس میں انہوں نے سنیل تٹکرے کی رکنیت کورد کرنے کے لیے کہا ہے۔ جناب نسیم صدیقی نے کہا کہ جو سنیل تٹکرے ہماری کارگزارصدر محترمہ سپریاسولے پرذات پات کی تفریق کا الزام عائدکررہے ہیں انہیں پارٹی نے سب کچھ دیا۔ پارٹی کی وجہ سے ہی انہیں پارلیمنٹ کی رکنیت ملی ہے، یہ پارٹی کی ہی دین ہے کہ ان کی صاحبزادی، ان کے صاحبزادے اور ان کے بھائی آج اسمبلی کے رکن ہیں۔ پارٹی کی ہی وجہ سے وہ خود وزارت کے عہدے پر بھی رہ چکے ہیں۔ 1999کے بعد شردپوار صاحب نے پارٹی کو بڑھایا اور ان لوگوں کو بیشتر بڑے بڑے مواقع دیئے۔جن لوگوں کی اس وقت کوئی اہمیت نہیں تھی، انہیں پوار صاحب نے پارٹی میں اونچے اونچے عہدے دیئے۔لیکن افسوس کہ آج وہی لوگ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ ہم شودر ہیں اس لیے ہمیں ٹارگیٹ کیا جارہا ہے۔ اس طرح کے بیانات کا ہم تما م لوگ مذمت کرتے ہیں۔ یہ لڑائی سیاسی ہے، اسے ذات ودھرم کا رنگ دینا انتہائی غلط ہے۔

نسیم صدیقی نے کہا کہ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ کس کے پیچھے ای ڈی ہے اور کس کے پیچھے انکم ٹیکس ہے۔ اسی لیے یہ تمام لوگ پارٹی چھوڑکرگیے ہیں۔ چونکہ سپریاسولے نے انہیں نااہل کیے جانے کے لیے مکتوب دیا ہے اس لیے یہ لوگ ان پر ایسے گھٹیا الزام عائد کررہے ہیں۔ نسیم صدیقی نے کہا کہ جو بھی الزامات عائد کیے جارہے ہیں وہ انتہائی غلط ہیں، پارٹی کے ترجمان کی حیثیت سے میں اس کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ افسوس کہ یہ لوگ ایسی پارٹی کی لیڈر پر الزام عائد کررہے ہیں جو شاہو،پھلے وامبیڈکر کے نظریات کی سب سے بڑی امین ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading