24 گھنٹوں میں مہاراشٹر گاڑیوں پر حملے نہ رکے تو نتائج کی ذمہ داری کرناٹک کے وزیراعلیٰ پر ہوگی: شردپوار

621
  • کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کے مسلسل بیانات کی وجہ سے سرحدی علاقوں کی صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے
  • کوئی جان بوجھ کر اشتعال دلانے کی کوشش کر رہا ہے اور بدقسمتی سے یہاں کی ریاستی حکومت نے تماشائی بنی ہوئی ہے

ممبئی:این سی پی کے قومی صدر شرد پوار نے ایک پریس کانفرنس میں خبردار کیا کہ اگر24گھنٹے کے اندر کرناٹک میں مہاراشٹر کی گاڑیوں پر حملے نہیں رکے تو لوگوں کے صبرکا پیمانہ لبریز ہوجائے گا اور پھر ایک نئی صورت حال پیدا ہوجائے گی جس کی تمام ترذمہ داری کرناٹک حکومت پر ہوگئی۔

کرناٹک-مہاراشٹر سرحدی تنازعہ منگل کے روز بڑھ گیا جب دونوں ریاستوں کے ٹرک اور بسیں حملے کی زد میں آئیں یہاں تک کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ کشیدگی کی وجہ سے، مہاراشٹر اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (MSRTC) نے منگل کی سہ پہر کو پولیس کی ایک ایڈوائزری پر پڑوسی ریاست کے لیے بس سروس معطل کردی۔

ایسا لگتا ہے کہ حکومتوں کے درمیان مذاکرات کا زمین پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ جبکہ کرناٹک میں بی جے پی لیڈر بسواراج بومائی بطور وزیر اعلیٰ ہیں، مہاراشٹر میں بی جے پی-شیو سینا (بالا صاحبانچی شیوسینا) اتحاد کی حکومت ہے، بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس نائب وزیر اعلیٰ ہیں۔

اپنی رہائش گاہ سلور اوک پرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے شردپوار نے مرکزوکرناٹک کی حکومت پرسخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کے لوگوں کا رویہ اب بھی صبر و تحمل کا ہے اور اس کا امتحان نہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے وزیراعلیٰ کا اشتعال انگیزبیانات اور ان کی حکومت کی طرف سے ہورہے حملے ہو رہے ہیں ملک کے اتحاد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اگر یہ کام کرناٹک سے ہو رہا ہے، تو مرکزی حکومت کو خاموش تماشائی بنے رہنے سے یہ معاملہ حل نہیں ہوگا۔شردپوارنے کہا کہ سرحدی علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر کوئی بہتر موقف اختیار کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ملک کو آئین دینے والوں نے لسانی بنیاد پر بھی لوگوں کوبرابر کے حقوق دیئے ہیں۔ملک کو آئین دینے عظیم انسان ڈاکٹرباباصاحب امبیڈکر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے دن مہاراشٹر کرناٹک سرحد پر جو کچھ ہوا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔کرناٹک کے وزیر اعلیٰ گزشتہ ایک ہفتے سے جان بوجھ کر اس معاملے کومتشدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں جو بھی بیانات دیئے ہیں ان کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔

شردپوار نے کہا کہ سرحدی مسئلہ کئی سالوں کا ہے۔ مجھے ستیہ گرہ کرنا پڑا،لاٹھیاں کھانی پڑیں اس لیے یہ تنازعہ کئی سالوں کا ہے۔ جب بھی سرحدی علاقوں میں کچھ ہوتا ہے تولوگ مجھ سے رابطہ کرتے ہیں۔ میرے پاس جو معلومات ہیں وہ بہت تشویشناک ہیں۔ آج ایکری کرن سمیتی کے لوگوں کے ذریعے مہاراشٹر سے آنے والی ہر گاڑیوں کی جانچ کی جارہی ہے۔ضلع کلکٹر کوبھی میمورنڈم لینے سے روکا جارہا ہے۔ 19 دسمبر کو کرناٹک اسمبلی کا اجلاس ہونے والا ہے۔ ایسے میں مراٹھی بولنے والوں کے خلاف دہشت کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔اس صورت حال میں دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو کوئی بہتر حل نکال کر حالات کو معمول پر لانا ضروری تھا۔ نائب وزیراعلیٰ نے خود کہا ہے کہ انہوں نے رابطہ کیا تھا، اچھی بات ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آرہا ہے۔خاص طو رسے مہاراشٹر آنے والی گاڑیوں پر جو حملے ہوئے ہیں اس سے خوف کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ یہ فوری طور پر رکنا چاہئے اگر نہیں رکا تو مہاراشٹر نے صبروتحمل کا جو مظاہرہ کیا ہے مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں ختم نہ ہوجائے۔

شردپوار نے کہا کہ کل سے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس کل سے شروع ہو رہا ہے۔ ہم مہاراشٹر کے ممبران پارلیمنٹ سے اس معاملے کی جانب مرکزی وزیر داخلہ کی توجہ میں دلانے کی درخواست کریں گے۔ شرد پوار نے واضح طور پرانتباہ دیا کہ اگر کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں، اگر کوئی قانون ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کے نتائج اور ذمہ داری مرکزی حکومت اور کرناٹک حکومت کی ہوگی۔اس معاملے کا حل نکالتے ہوئے کسی ایک پارٹی کو نہیں بلکہ تمام پارٹیوں کو متحد ہوناچاہئے کیونکہ یہ پورے مہاراشٹر کا معاملہ ہے۔ سابق وزیراعلیٰ نے اس تعلق سے میٹنگیں لیں تھیں اور عدالتی جدوجہد کا فیصلہ کیا تھا۔ اب یہ معاملہ عدالت میں ہے لیکن کرناٹک حکومت قانون اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کررہی ہے۔ شردپوار نے صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کرناٹک حکومت عدالتی کارروائی کا دکھاوا کررہی ہے جبکہ اس کے عمل سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ اسے نہ عدالت کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی قانون کا۔