ایم وی اے حکومت کا طریقہ کار، بات کم کام زیادہ: نواب ملک

6

بالآخر دیوندرفڈنویس کو اندازہ ہوہی گیا کہ حکومت گرائی نہیں جاسکتی

ممبئی/پونے: ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے دوسال مکمل ہونے پر این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے آج پونے میں میڈیا کے سامنے حکومت کے کام کاج کا احوال پیش کیا اور کہا کہ حکومت کے پرچار اور تشہیر سے متعلق بات کی جارہی ہے لیکن حکومت کا طریقہئ کار بات کم اور کام زیادہ کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے اس نے پچھلی حکومت کے دوران زیر التوا کسانوں کے قرض معافی کی تجویز کو منظور کرکے ریاست کے کسانوں کو راحت دی۔ بدقسمتی سے حکومت کے برسراقتدار آنے کے محض تین ماہ کے اندر ہی ملک کو کورونا کی وبا نے اپنی لپیٹ میں لے لیالیکن ملک بھر میں ہم نے جس بحران کا مشاہدہ کیا وہ صورت حال حکومت نے ریاست میں پیدا نہیں ہونے دیا۔ اس کے لئے ریاستی حکومت نے کوویڈ سنٹرس، جانچ میں اضافہ، آکسیجن کی فراہمی جیسی تمام سہولیات پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔نواب ملک نے کہا کہ گجرات میں مریضوں کی تعداد چھپائی گئی اور اترپردیش میں آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے لکڑیاں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے لاشوں کو گنگا ندی میں پھینک دیا گیا۔

نواب ملک نے کہا کہ مہاویکاس اگھاڑی حکومت نے کوویڈ کی وبا کے دوران بھی ترقیاتی کاموں کو رکنے نہیں دیا اورکوئی بھی پروجیکٹ منسوخ نہیں کیا۔ ریاست میں محکمہ اسکل ڈیولپمنٹ کے ذریعے اسکل یونیورسٹی شروع کی گئی ہے۔ چونکہ بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے اس لئے ریاستی حکومت نے بیروزگاروں کو آن جاب ٹریننگ کے ذریعے بیروزگاروں کو فائدہ پہونچانے کا پروگرام ترتیب دیا۔اس نئے پروگرام کو ریاست میں بے روزگاری کے خاتمے کے لیے روبہ عمل لایاجا ئے گا۔

نواب ملک نے اس موقع پریہ بھی کہا کہ ریاست میں ایم وی اے حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی بی جے پی لیڈران کہتے رہے کہ یہ حکومت گرنے والی ہے لیکن سابق وزیراعلیٰ دیوندرفڈنویس نے گزشتہ کل کہا کہ ہم یہ حکومت نہیں گرائیں گے بلکہ حکومت گرنے کے بعد نئی حکومت بنائیں گے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ یہ حکومت گرانا بی جے پی کے بس کی بات نہیں ہے اورانہوں نے اس بات کا اعتراف کرلیا ہے۔نواب ملک نے کہا کہ 2024 میں یہ حکومت دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔ وزیراعلیٰ کویقین ہے کہ یہ حکومت صرف پانچ سال کے لئے نہیں بلکہ 25سالوں کے لئے وجود میں آئی ہے۔یہ اس لئے ہے کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں شامل تمام پارٹیوں کے درمیان اتحاد نہایت مضبوط ہے۔