ذات پر مبنی مردم شماری کا فیصلہ سماجی مساوات کی سمت ایک انقلابی قدم: اجیت پوار

وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کا شکریہ، مرکز کا اقدام پسماندہ طبقات کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا

ممبئی: مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کا پُرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم اور انقلابی قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک میں سماجی مساوات کے قیام میں تیزی سے مددگار ہوگا اور معاشرتی طور پر پسماندہ، محروم اور نظر انداز کیے گئے طبقات کی تعلیم اور معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

اجیت پوار نے اس اقدام پر وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور مکمل مرکزی کابینہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس مردم شماری کے ذریعے حکومت کو مختلف ذاتوں کی سماجی و اقتصادی حالت کی صحیح اور مکمل معلومات حاصل ہوں گی، جس سے ترقیاتی منصوبوں کو ان تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے گا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ تمام سماجی طبقوں کو ان کا جائز حق دلانے میں مددگار ہوگا اور حکومت کو ان کی ترقی کے لیے زیادہ وسائل فراہم کرنے کی سہولت دے گا۔

نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کی مانگ کئی دہائیوں سے مختلف افراد، اداروں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے کی جا رہی تھی۔ لیکن یہ مطالبہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ جیسے دوراندیش اور حساس قیادت کے باعث ہی ممکن ہو سکا ہے۔ اجیت پوار نے اس فیصلے کو مستقبل میں ذات پات کی بنیاد پر قائم نظام کو ختم کرنے کی سمت ایک مؤثر قدم قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک صرف درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی سماجی و معاشی صورتحال سے متعلق معلومات ہی دستیاب تھیں، جب کہ دیگر ذاتوں، خاص طور پر دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی حالت کا کوئی واضح ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ اس وجہ سے ان طبقات کو حکومتی اسکیموں سے مکمل فائدہ حاصل نہیں ہو پا رہا تھا۔

اجیت پوار کے مطابق ذات پر مبنی مردم شماری سے نہ صرف ترقیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے گی بلکہ انتہائی پسماندہ سماجی گروہوں کو اضافی فنڈز دے کر ان کی تیز رفتار ترقی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ انہوں نے اس اقدام کو "سماجی مساوات کی سمت مرکز کی ایک اہم پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سبھی طبقات کو ترقی کے مساوی مواقع میسر آئیں گے اور ایک زیادہ منصفانہ اور جامع سماج کی تشکیل ممکن ہوگی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading