ہاتھرس معاملے میں یوگی آدتیہ ناتھ کا نارکوٹسٹ کیا جائے: نواب ملک

ممبئی: ہاتھرس کے اجتماعی عصمت دری وقتل معاملے نے جہاں اترپردیش میں بڑھتے جرائم کے گراف کو دنیا کے سامنے اجاگر کردیا ہے وہیں مقتولہ کے گھروالوں کو مل رہی دھمکیوں نے یوگی حکومت کے جنگل راج پر بھی مہر لگادی ہے۔

ایسے میں یوگی حکومت کا یہ اعلان کہ وہ اس معاملے کے تفتیشی افسران کا نارکوٹسٹ کرائے گی، جرائم کی سنگینی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ یوگی حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان ریاست کے اقلیتی بہبود کے وزیر نواب ملک نے کہا ہے کہ بجائے درجنوں افسران کا نارکوٹسٹ کرانے کے اگر صرف یوگی آدتیہ ناتھ کا ہی نارکوٹسٹ کرالیا جائے تو اس کی سازش پوری طرح سے بے نقاب ہوجائے گی۔

نواب ملک نے کہا ہے کہ یہ اترپردیش حکومت کا کھلا جنگل راج ہے کہ پہلے اپوزیشن اور میڈیا کے لوگوں کو مقتولہ کے گھروالوں سے نہیں ملنے دیا گیا اور اب یہ کہا جارہا ہے کہ اس معاملے کے تفتیشی افسران کا نارکوٹسٹ کرایا جائے گا۔ یوگی آدتیہ ناتھ اس کے ذریعے اپنے مجرمانہ کوتاہیوں کو چھپانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجائے درجنوں افسران کا نارکوٹسٹ کرانے کے اگر صرف یوگی آدتیہ ناتھ کا ہی نارکوٹسٹ کرلیا جائے تو یہ معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے اس پر پردہ ڈالنے اور اس واقعے کو دبانے کے لیے کس کس کو فون کیا اور کس کس پر دباؤ ڈالا۔

یہ توچوری اور سینہ زوری کے مانند ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ یوپی میں لاء اینڈ آرڈر پوری طرح ختم ہوچکا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ ایک جانب اپنے مخالفین کو ریاست کا دشمن قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب سے پچھڑے اور کمزور طبقات کو طاقتوروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیئے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading