NCP Urdu News 26 July 25

انوشکتی نگر میں جدید میونسپل اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کو رفتار دینے کی تیاری

چمبور کے انیک علاقے میں اقلیتی طالبات کے لیے انجینئرنگ کالج قائم کرنے کا فیصلہ

اقلیتی طلبہ کے لیے تعلیمی قرض اور وظائف کی اسکیمیں مؤثر انداز میں نافذ کی جائیں گی

ممبئی: شہر کے انوشکتی نگر علاقے میں میونسپل اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر، چمبور کے انیک علاقے میں اقلیتی طالبات کے لیے انجینئرنگ کالج کے قیام اور اقلیتی طلبہ کو تعلیمی قرض و وظائف کے ذریعے اعلیٰ و بیرونی تعلیم کے مواقع فراہم کرنے جیسے تین اہم فلاحی فیصلے حکومت مہاراشٹر کی جانب سے لیے گئے ہیں۔ ان فیصلوں کے پسِ پشت انوشکتی نگر حلقے کی رکن اسمبلی ثنا ملک شیخ کی بھرپور کوششیں اور مسلسل پیروی شامل رہی ہے، جنہوں نے ان منصوبوں کے لیے اعلیٰ سطح پر بارہا نمائندگی کی۔ گزشتہ روز منترالیہ میں منعقدہ اہم اجلاس میں این سی پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر نواب ملک بھی موجود تھے۔ یہ تمام فیصلے ثنا ملک شیخ اور نواب ملک کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں، جن کی جدوجہد کے سبب حکومت نے ان ترقیاتی اقدامات کو منظوری دی۔

انوشکتی نگر میں میونسپل اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کے منصوبے کو سرعت دینے کے لیے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کھیل کود کے لیے مختص اراضی کو محصولاتی محکمہ کی ہم آہنگی سے فوری طور پر ممبئی میونسپل کارپوریشن کے حوالے کر دیا جائے۔ اس اسپورٹس کمپلیکس کے قیام کا مقصد ممبئی کے نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی تربیت اور سہولیات فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ ریاستی، قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں نمایاں کارکردگی پیش کر سکیں۔ اجلاس میں واضح ہدایت دی گئی کہ تعمیراتی کام میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو اور تمام متعلقہ محکمے ہم آہنگی سے فوری عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

اسی اجلاس میں ایک اور اہم فیصلہ یہ لیا گیا کہ چمبور کے انیک علاقے میں اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والی طالبات کے لیے ایک انجینئرنگ کالج قائم کیا جائے گا۔ اس کالج کے قیام کے لیے نہ صرف تدریسی عملے کی آسامیاں تخلیق کی جائیں گی بلکہ ادارے کی تعمیر، دیکھ بھال اور انتظامی ڈھانچے کی مکمل ذمہ داری بھی سنبھالی جائے گی۔ یہ تعلیمی ادارہ اقلیتی لڑکیوں کو تکنیکی تعلیم کے ذریعے بااختیار بنانے اور انہیں خود کفالت کی راہ پر گامزن کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی چھترپتی سمبھاجی نگر میں قائم اقلیتی تحقیق و تربیتی ادارے کی فعالیت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے خالی عہدوں پر فوری تقرری کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں اقلیتی طلبہ کے لیے تعلیمی قرض و وظائف کی اسکیمات کو وسعت دینے کا بھی فیصلہ ہوا۔ انّا صاحب پاٹل اقتصادی ترقیاتی کارپوریشن کی طرز پر مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن کے تحت ’مدت قرض اسکیم‘ اور ’ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام تعلیمی قرض اسکیم‘ کے لیے بجٹ مختص کیا جائے گا۔ ان اسکیمات کے تحت اقلیتی طلبہ نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ ہر سال طلبہ کی مخصوص تعداد کو ان اسکیموں کے ذریعے فائدہ پہنچانے کے لیے وظائف کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جائے گا۔ ان اسکیمات کی شفاف اور مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لیے واضح رہنما خطوط طے کیے جائیں گے تاکہ واقعی مستحق طلبہ تک ان کا فائدہ پہنچ سکے۔

اس ضمن میں ثنا ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اقلیتی برادری کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے اور ان فلاحی اسکیمات کو زمینی سطح پر نافذ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی۔ حکومت نے اقلیتوں اور نوجوانوں کی ترقی سے متعلق ان تینوں بڑے اقدامات کو منظوری دی، جو نہ صرف ممبئی بلکہ ریاست بھر کے ہزاروں افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

NCP Urdu News 26 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading