ممبئی: گورنر سے ملاقات کے بعد بی جے پی لیڈران یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت متزلزل ہوچکی ہے، جبکہ سچائی یہ ہے کہ حکومت متزلزل نہیں بلکہ سنجیدہ ہے۔ حکومت کو متزلزل کرنے کی بی جے پی کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ یہ باتیں آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کہی ہیں۔ آج حزبِ اختلاف لیڈر دیوندرفڈنویس نے بی جے پی لیڈران کے ساتھ گورنر سے ملاقات کی، جس کے بعد انہوں نے مہاوکاس اگھاڑی حکومت پر الزامات عائد کیے۔ نواب ملک نے ان الزامات کا سخت جواب دیا۔

نواب ملک نے کہاکہ فڈنویس نے رشمی شکلا کی اس رپورٹ کی بنیاد پر الزامات عائد کررہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس افسران کے تبادلے میں پیسوں لیے گئے۔ اس معاملے میں سب سے بڑی خیانت یہ کی گئی ہے کہ مذکورہ رپورٹ کا محض ایک صفحہ میڈیا کو دیا گیا ہے، پوری رپورٹ نہیں دی گئی۔ اس رپورٹ میں نام ہیں جن کے مطابق تبادلے کیے گئے۔ فڈنویس وزیراعلیٰ و وزیرداخلہ رہ چکے ہیں، اس لیے انہیں تبادلے کا پروسیجر معلوم ہوگا۔ تبادلوں کے لیے ایک بورڈ ہے جو اے سی ایس ہوم کے زیرصدارت ہوتا ہے۔ وہ بورڈ سفارش کرتی ہے۔ جونیئر افسران کے تبادلے کا بورڈ ڈی جی کے زیرصدارت ہوتا ہے۔ اگر فڈنویس کا الزام درست ہے توکیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا سبودھ جیسوال پیسے لے کر سفارش کررہے تھے؟نواب ملک نے کہا کہ مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر فڈنویس حکومت کوبدنام کررہے تھے۔ کل ہی ہم نے فڈنویس کے دعوے کی سچائی وجھوٹ کو عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کے لوگ اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتے اسی لیے وہ یہ سب ہنگامہ مچائے ہوئے ہیں۔