ابو عاصم اعظمی مہاراشٹر کے لیے خطرہ، حکومت فوری کارروائی کرے: آنند پرانجپے
مراٹھی زبان کی توہین برداشت نہیں، حکومت مراٹھی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے
اورنگزیب کی مدح سرائی ناقابل برداشت، ایسی سوچ کا مہاراشٹر میں کوئی مقام نہیں
ممبئی: این سی پی کے ترجمان آنند پرانجپے نے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی کے حالیہ بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ مہاراشٹر کے لیے ایک خطرناک رجحان بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابو عاصم اعظمی جان بوجھ کر فرقہ وارانہ سیاست کو ہوا دے رہے ہیں اور اس سے نہ صرف سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ عوامی جذبات بھی مجروح ہو رہے ہیں۔ آنند پرانجپے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر پر سخت کارروائی کی جائے تاکہ ریاست کی ہم آہنگی اور اتحاد کو محفوظ رکھا جا سکے۔
آنند پرانجپے نے مہاراشٹر کی صدیوں پرانی روحانی روایت ’آساڑھی واری‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سنت گیانیشور اور سنت تُکارام کی پالکھی یاترا آلانڈی اور دہو سے نکل کر پنڈھر پور تک جاتی ہے جس میں لاکھوں وارکری پیدل سفر کرتے ہیں۔ اس یاترا میں نہ صرف ہندو بلکہ کئی مسلمان بھائی بھی شریک ہوتے ہیں اور خدمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مثال مہاراشٹر کی اس میل جول والی ثقافت کی علامت ہے جسے ابو عاظمی جیسے عناصر نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پرانجپے نے کہا کہ ہندو مسلم تفریق کو بنیاد بنا کر سیاست کرنے والوں کے لیے مہاراشٹر میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
اس موقع پر آنند پرانجپے نے زبان کے مسئلے پر بھی حکومت کا مؤقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی سرکاری اور تہذیبی زبان صرف مراٹھی ہے اور مہایوتی حکومت کبھی بھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرے گی جس سے مراٹھی زبان کی توہین ہو۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ایک اہم اجلاس بلایا ہے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریاست کے تمام اسکولوں میں پہلی سے پانچویں جماعت تک مراٹھی زبان کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ دوسری یا تیسری زبان کے طور پر اگر بیس سے زائد طلبہ کسی دوسری زبان جیسے ہندی یا دیگر بھارتی زبان کا انتخاب کرتے ہیں تو متعلقہ اسکول پر لازم ہوگا کہ اس زبان کے لیے باقاعدہ استاد مقرر کرے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مراٹھی زبان کو وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ’شاستریہ بھاشا‘ یعنی کلاسیکی زبان کا درجہ دیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت مراٹھی کے تحفظ و فروغ کے لیے سنجیدہ ہے۔
آنند پرانجپے نے ایک بار پھر اورنگزیب کی مدح سرائی پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ مہاراشٹر میں ایسے کسی رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو اورنگزیب جیسے ظالم بادشاہ کی تعریف کرے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چھترپتی سنبھاجی مہاراج کو جس بے رحمی سے مارا گیا، وہ مہاراشٹر کے تاریخی شعور میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اورنگزیب نے نہ صرف اپنے باپ کو آٹھ سال قید میں رکھا بلکہ اپنے بھائیوں کا قتل کیا اور شیواجی مہاراج پر کئی حملے کیے۔ پرانجپے نے کہا کہ ایسے ظالم حکمران کو آئیڈیل بنانے والے افراد کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے اور ایسی سوچ کو مہاراشٹر میں ہرگز جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق ریاست کی شناخت شیواجی مہاراج جیسے عظیم رہنماؤں سے وابستہ ہے اور جو عناصر اس شناخت کو چیلنج کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت اقدام ناگزیر ہے۔