انل دیشمکھ پر کارروائی ’آپریشن لوٹس‘ کا حصہ تھی: سلیل دیشمکھ
پرمبیر سنگھ ہی انٹیلیا کیس میں بم رکھنے والا تھا اور بی جے پی کی مدد سے گرفتاری سے بچا
ممبئی: 23 جون 2025
ریاست کے سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ کے خلاف کی گئی کارروائی کو ’آپریشن لوٹس‘ کا ایک حصہ قرار دیتے ہوئے، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے نوجوان لیڈر سلیل دیشمکھ نے بی جے پی پر شدید تنقید کی ہے۔ ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بی جے پی اور مرکزی ایجنسیوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے سیاسی انتقام کے تحت یہ تمام کارروائیاں کیں۔
سلیل دیشمکھ نے کہا کہ ان کے خاندان، بالخصوص ان کے گھر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے کئی مرتبہ چھاپے مارے گئے اور ان کے افراد خانہ سے سخت تفتیش کی گئی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی کمسن بیٹی سے بھی تفتیش کی گئی، جس سے ایجنسیوں کی غیر انسانی رویے کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو مکمل طور پر سیاسی انتقام پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ یہ سب ’آپریشن لوٹس‘ کی کڑیوں میں سے ایک کڑی تھا۔ دیشمکھ نے مزید کہا کہ انٹیلیا کیس میں زیر تفتیش شخص پرمبیر سنگھ دراصل بم رکھنے کا ذمہ دار تھا اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے ان کی گرفتاری ہونے والی تھی۔ لیکن بی جے پی کی پشت پناہی سے وہ گرفتاری سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
سلیل دیشمکھ نے کہا کہ پرمبیر سنگھ کے خلاف الزامات ہونے کے باوجود ان کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی گئی، جو بی جے پی کی دوہری پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ سلیل دیشمکھ نے ’گل موہر‘ میں بھاری نقد رقم کی موجودگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جب وہاں سے بڑی رقم برآمد ہوئی، تب بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کچھ مخصوص افراد کے خلاف کارروائی میں ایجنسیاں اتنی سرگرم کیوں ہوتی ہیں، جب کہ دیگر کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایجنسیاں آزادانہ طور پر نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کے تحت کام کر رہی ہیں۔
انتخابات سے متعلق ایک سوال پر سلیل دیشمکھ نے الیکشن کمیشن کو بھی نشانے پر لیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی ڈیٹا کو 45 دن قبل منسوخ کرنے کا جو فیصلہ لیا گیا ہے، وہ جمہوریت کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ الیکشن کمیشن کسی مخصوص سیاسی جماعت کا آلہ کار بن چکا ہے۔ سلیل دیشمکھ نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مراٹھی زبان کو دانستہ طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھی زبان ہمارے وقار اور شناخت کی علامت ہے اور اگر حکومت خود ہی اس زبان کو نظر انداز کرنے لگے تو یہ انتہائی افسوسناک امر ہوگا۔ انہوں نے تمام مہاراشٹرین عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی زبان، تہذیب اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے آگے آئیں۔
واضح رہے کہ انل دیشمکھ کے خلاف کرپشن اور منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے، جن کے تحت ای ڈی اور سی بی آئی نے کارروائیاں کیں۔ مگر شرد پوار گروپ کی جانب سے مستقل طور پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ ان الزامات کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں اور ان کا مقصد پارٹی کی شبیہ خراب کرنا اور مہاراشٹر کی سیاست میں بی جے پی کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مہاراشٹر کی سیاست میں ’آپریشن لوٹس‘ کا ذکر ہوا ہو۔ ماضی میں بھی کئی مرتبہ اپوزیشن کی جماعتوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مرکز میں اپنی طاقت اور تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کرتے ہوئے سیاسی مقاصد کے تحت کارروائیاں کرواتی ہے۔
NCP-SP Urdu News 23 June 25.docx
