ٹھاکرے حکومت اسمبلی میں اکثریت ثابت کرے گی: شردپوار یہ کہنا سیاسی جہالت ہے کہ ڈھاءی سال میں تجربہ ناکام ہوگیا

ممبی: مہاراشٹرا نے پہلے بھی ایسی صورتحال دیکھی ہے، اس لیے ٹھاکرے حکومت اس پر قابو پا لے گی اور اسمبلی میں اکثریت ثابت کرے گی اور ملک کو پتہ چل جائے گا کہ حکومت ٹھاکرے کی قیادت میں ہے۔ این سی پی کے قومی صدر شرد پوار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے ڈھاءی سال میں نہایت عمدہ کام کیا ہے اور عوام کے لیے نہایت اچھے فیصلے بھی لیے۔کورونا کے قومی بحران کو ریاست کے محکمہ صحت نے بہتر طریقے سے سنبھالا اس لیے یہ کہنا کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کا ڈھائی سال کا تجربہ ناکام ہوگیا سیاسی جہالت ہے۔ شرد پوار نے یہ بھی کہا کہ جو ایم ایل اے ریاست چھوڑ کر چلے گءے ہیں وہ جب واپس آئیں گے تو اس بات کی وضاحت کریں گے کہ انہیں کس طرح لے جایا گیا اورپھر شیوسینا کے ساتھ وہ اپنا رول واضح کریں گے اور ثابت کریں گے کہ کس کے پاس اکثریت ہے۔باغی ممبرانِ اسمبلی کو یہاں آکر بولنا چاہئے، آسام میں رہ کر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھیوں نے کہا کہ شیوسینا کے ایم ایل اے کی بغاوت کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ نہیں ہے، لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔ ہمارے ساتھیوں کومقامی حالات کا ضرورعلم ہے لیکن میں گجرات اور آسام کے حالات کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں۔ ایکناتھ شندے نے ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوءے کہا کہ انہیں ایک قومی پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ میرے پاس ملک کی تمام جماعتوں کی فہرست ہے۔ اس فہرست میں ملک کی6منظورشدہ قومی جماعتیں شامل ہیں۔ ان پارٹیوں میں بی جے پی، کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم، بی ایس پی اور این سی پی ہیں۔ کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم، بی ایس پی اور این سی پی کے ذریعے شندے کی مدد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اب باقی بچی پارٹی کون سی ہے؟ اس سے سبھی واقف ہیں۔

جو لوگ سورت اور آسام میں باغی ایم ایل ایز کی خاطر تواضع کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں انہیں اجیت پوار نہیں جانتے لیکن میں انہیں جانتا ہوں۔ سورت میں بی جے پی کے ریاستی صدر پاٹل ایک مراٹھی ہیں، میں انہیں اس لیے جانتا ہوں کہ وہ ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ اگر انہوں نے سورت میں باغی ایم ایل ایز کے ٹھہرنے اور دیگر انتظام کیا ہے تو اس کا کیا مطلب سمجھا جائے ؟آسام میں پورا انتظام وہاں کی ریاستی حکومت نے کیا ہے ، آسام میں بی جے پی کی حکومت ہے۔اس لیے اگر باغی ممبرانِ اسمبلی کی خاطر تواضع کرتے ہوءے وہاں کوئی نظر نہیں آرہا ہے تو بھی وہاں کون کیا کررہا ہے یہ سبھی کو نظر آرہا ہے۔

شرد پوار نے کہا کہ شیوسینا کے ایم ایل اے جہاں بھی جائیں ، انہیں ریاست میں واپس آنا ہی پڑے گا۔اسمبلی کے احاطے میں آنے کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ آسام اور گجرات کے لیڈریہاں آکر ان کی رہنمائی کریں گے۔ اس کے علاوہ وہاں جانے والے ایم ایل اے نے جو فیصلہ لیا ہے وہ پارٹی مخالف پابندی کے قانون کے خلاف ہے، اس لیے انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ان کے حلقہ انتخاب میں بھی اس کا ردعمل ظاہر ہوگا،انہیں اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کو اپنی بغاوت کی وجہ بتانا ہے اس لیے وہ فنڈز نہ ملنے کی تاویل پیش کررہے ہیں۔شردپوار نے کہا کہ جب چھگن بھجبل شیوسینا چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوئے تھے تو ان کے ساتھ 12 ؍سے16 ؍لوگ تھے۔لیکن جب الیکشن ہوئے تو ایک کے سوا سب کو شکست ہوئی۔ یہ سابقہ تجربہ ہے۔ اس لیے جو لوگ آسام گئے ہیں ان کے ساتھ بھی یہ صورتحال ہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے اپنے لوگوں کو کچھ نہ کچھ بتانے کے لیے فنڈ کا موضوع اچھالاجارہا ہے ، جبکہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ شرد پوار نے یہ بھی کہا کہ جو ایم ایل اے گوہاٹی گئے ہیں ان میں سے بیشتر کی مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے تفتیش کی جا رہی ہے یا تفتیش ہوچکی ہے ۔اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہواہے۔ اس کے علاوہ ڈھائی سال اقتدار میں رہتے ہوئے ان ایم ایل ایز کو ہندوتوا کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ آج جب حکومت کے خلاف جانے کا موقع ملا ہے تو ہندوتوا کو بنیاد بنایا جارہا ہے ۔