مجھ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد، مہاڈ میونسپل الیکشن میں پیش آنے والا واقعہ قابلِ مذمت: تٹکرے

ضلع ایس پی واقعے کی مکمل جانچ کرے، جو قصوروار ہو اس پر سخت کارراوئی کی جائے

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ سنیل تتکڑے نے کہا ہے کہ ان پر جو الزام عائد کیا گیا ہے اس کا ان سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ ان کے مطابق جو لوگ خود غلط کام کرتے ہیں، وہی دوسروں پر غلیظ الزامات لگاتے ہیں، اس لیے ایسی حرکتوں پر انہیں کوئی حیرت نہیں۔ جن کا جرائم کا پس منظر ہے، ان کا ریکارڈ کے پیشِ نظر ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ اس پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ کرے اور جو بھی قصوروار ہو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

تٹکرے نے کہا کہ تاریخی شہر مہاڈ میں میونسپل انتخابات کے دوران جو ناگوار واقعہ پیش آیا وہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ صبح سے متعلقہ وزیر کے صاحبزادے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شہر میں گھومتے رہے اور پولنگ مراکز پر جا کر الیکشن افسران سے بحث کرتے رہے۔ الیکشن کمیشن کے قوانین کے تحت پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف امیدوار، ان کے نمائندے یا پولنگ ایجنٹ کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اس ضابطے کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پر جو الزام لگایا گیا ہے اس کی مکمل جانچ ضلع ایس پی سے کروائی جائے۔ تٹکرے کا کہنا تھا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی ایسی حرکت نہیں کی، جبکہ جن لوگوں نے یہ زبان درازی کی ہے ان کی پوری زندگی جرائم کے سائے میں گزری ہے، اس لیے انہیں کم از کم ایسی بات کرنے کی جرأت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس موقع پر انہوں نے یاد دلایا کہ چار سال قبل متحدہ شیوسینا کے دور میں ضلعی صدر کو کس نے زد و کوب کیا تھا، یہ حقیقت سب کے سامنے ہے۔

تٹکرے نے کہا کہ مہاڈ میں امن قائم کرنے کی ضرورت تھی، لیکن جس طرح کی غنڈہ گردی سامنے آئی وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ سوشانت جابرے ایک زمانے میں اسی گروہ کے قریبی کارکن تھے، اور تین ماہ قبل ہی این سی پی میں شامل ہوئے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں وفاداری تبدیل کرنے کی وجہ وہی بہتر جانتے ہیں۔ جابرے نے شیوسینا کیوں چھوڑی اور این سی پی میں کیوں آئے، یہ بات پوری ریاست جانتی ہے۔ تٹکرے نے کہا کہ مجھ پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے جن لوگوں نے جو زبان استعمال کی وہ ان کی سوچ کی پستی کی عکاس ہے۔ میری عمر آج 71 سال کی ہے، بجائے اس کا احترام کرنے کے جس طرح کی گھٹیا زبان استعمال کی گئی، اس نے پوری ریاست کو ان کی ذہنی گراوٹ دکھا دی۔ ایسی سوچ کے لوگ جو رویہ اپناتے ہیں اس پر کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ووٹنگ کے دن وہ صبح سے روہا اور شریوردھن سمیت مختلف شہری علاقوں میں اپنے کارکنوں اور عوام سے ملنے گئے تھے اور یہی ان کا واحد مقصد تھا۔

NCP Urdu News 2 Dec. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading