بلڈانہ میونسپل الیکشن میں حکمراں محاذ کی بوکھلاہٹ، جعلی ووٹنگ کا کھیل، سخت کارروائی کی جائے: ہرش وردھن سپکال

جعلی ووٹر بھر کر لائے گئے، پولیس تماشائی بنی رہی، انتخابات شفاف کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے مگر ریاست بھر میں بدنظمی عام

ممبئی/بلڈانہ: مہاراشٹر میں جاری میونسپل انتخابات کے دوران حکمراں بی جے پی-مہایوتی اتحاد پر شدید الزام عائد کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ بلڈانہ اور دیگر علاقوں میں جعلی ووٹنگ کا منظم کھیل کھیلا جارہا ہے اور پولیس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ سپکال نے انتخابی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ جعلی ووٹ ڈالنے اور ڈلوانے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے، ورنہ یہ انتخابات شفافیت سے کوسوں دور ہوجائیں گے۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بلڈانہ میں گاڑیوں میں بھر کر دیہی علاقوں کے لوگوں کو لایا گیا تاکہ وہ فرضی ووٹنگ کرسکیں۔ کانگریس کارکنوں نے جب ایسے ووٹروں کو پکڑا تو مقامی ایم ایل اے کے آدمیوں نے پولیس سے جھگڑا کیا اور پولیس نے بھی محض رسمی کارروائی کا یقین دلایا۔ ان کے بقول یہ سراسر جمہوریت کی توہین ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکمراں جماعت اقتدار کے غلط استعمال اور دباؤ کی سیاست میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ عوامی فضا کانگریس کے حق میں ہے، اس لیے حکمراں اتحاد گھبراہٹ میں منفی ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے، مگر اس کے باوجود کانگریس ہی کامیاب ہوگی۔

سپکال نے دعویٰ کیا کہ بلڈانہ میں صبح سات بجے سے پولنگ شروع ہوئی، اور صرف ڈیڑھ گھنٹے میں جعلی ووٹنگ کا سلسلہ تیز ہوگیا۔ گاندھی پرائمری اسکول کے پولنگ اسٹیشن (وارڈ نمبر 15) پر ایک شخص کو ’ویبھَو دیشمکھ‘ نامی ووٹر کے نام پر جعلی ووٹ ڈالتے ہوئے پکڑا گیا، جس کے ساتھ ایک اور فرد بھی موجود تھا۔ سپکال کے مطابق کوتلھی اور ابراہیم پور جیسے علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کو جعلی ووٹنگ کے لیے لایا گیا تھا اور متعدد گاڑیاں گھاٹ کے نیچے سے بھر کر بلڈھانہ میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمراں جماعت انتخابی نظام کو خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے اور پولیس بھی کارروائی سے جی چُرا رہی ہے۔ انہوں نے اس پورے معاملے پر الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت اور مجرموں کے خلاف سخت ایکشن کی پرزور اپیل کی۔

MPCC Urdu News 2 December 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading