حکمران محاذ میں شدید بے چینی ہے
شرد پوارفرقہ پرست پارٹی کے ساتھ ہرگز نہیں جائیں گے
این سی پی لیڈرو سابق وزیر جیتنداوہاڈ کی حکومت پر شدید تنقید
ممبئی:این سی پی لیڈر وسابق وزیر جتیندر اوہاڈ نے کہا ہے کہ ملک میں ’انڈیا‘ اورریاست میں مہا وکاس اگھاڑی کو لوگوں کا زبردست رسپانس مل رہا ہے، ملک وریاست میں حکمراں پارٹی کی مقبولیت میں تیزی سے لڑھکتی جارہی ہے جس کی وجہ سے مقررہ وقت پر کرائے جانے والے انتخابات میں تاخیرہورہی ہے۔اگر انتخابات ہوتے ہیں تو ریاست میں مہاوکاس اگھاڑی کو زبردست کامیابی ملنے کا امکان ہے۔ اس لیے حکمراں پارٹیوں میں زبردست بے چینی ہے۔
بی جے پی کے ساتھ جانے سے متعلق شردپوار سے وضاحت طلب کرنے والے راجوشیٹی کوجواب دیتے ہوئے اوہاڈ نے کہا کہ اس سے قبل بھی ہم یہ وضاحت کرچکے ہیں اور ابھی بھی کررہے ہیں کہ ہماری سوچ بی جے پی کے خلاف ہے،ہماری نظریات کی لڑائی ہے، شردپوار صاحب کتنی بار اس کی وضاحت کریں کہ میں کسی فرقہ پرست پارٹی کے ساتھ نہیں جاؤنگا۔ نتن گڈکری سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اوہاڈ نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ نتن گڈکری کو پھنسانے کا یہ بی جے پی کا منصوبہ ہے کیونکہ جتنی بھی رپورٹ آئی ہے وہ نتن گڈکری کے محکمے کی ہی خلاف ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک اور مراٹھی شخص کو مشکل میں ڈالنے کی یہ بی جے پی کی کوئی سازش ہے۔ بی جے پی میں گڈکری کا اپنا علاحدہ مقام ہے اور ان کی بڑھتی مقبولیت کی وجہ سے انہیں مشکلات میں ڈالاجارہا ہے۔
مہاویکاس اگھاڑی میں سیٹ الاٹمنٹ کو لے کر کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ ہم تینوں پارٹیاں ریاست میں متحد ہو کر بی جے پی کو شکست دیں گے جو جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ بی جے پی کے خلاف آج تمام اپوزیشن پارٹیاں ’انڈیا‘ کے طور پر متحد ہیں۔ریاست کی تینوں پارٹیوں میں سیٹوں کی تقسیم کے حوالے سے بھی یہی ہوگا کہ سیٹیں جیتنے والوں کو دی جائیں گی۔ اگر متبادل امیدوار اچھا ہے تو اسے ضرور موقع دیا جائے گا۔ یہ فارمولہ طے شدہ ہے۔اس ضمن میں تمام فیصلے مشترکہ طور پر لیے جائیں گے۔