MPCC Urdu News 18 August 23

تلاٹھی امتحان کا پرچہ لیک کرنے کے خاطیوں کو سخت سزادی جائے: ناناپٹولے

طلباء کے مستقبل سے کھیلواڑ سہ جماعتی حکومت کو مہنگا پڑے گا

ملازمت بھرتی کے نام پر طلباء کو لوٹنے کی بی جے پی حکومت کی نئی پالیسی

کانگریس MPSC طلباء کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے

ممبئی:ملازمت کا خواب دیکھنے والے ریاست کے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ ریاست کی بی جے پی قیادت والی حکومت کھلواڑ کررہی ہے۔ اس حکومت کے دوران ایسا کوئی امتحان نہیں ہے جس میں بھرتی کے عمل میں کوئی گھوٹالہ نہ ہوا ہو۔ جمعرات کو تلاٹھی امتحان کا سوالیہ پرچہ لیک ہوگیا جس سے ریاست کے لاکھوں نوجوان مایوس ہوگئے۔ یہ حکومت امتحانات بھی ٹھیک سے نہیں کراپارہی ہے۔ مسلسل پیپرلیک ہورہے ہیں لیکن ریاستی حکومت اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ تلاٹھی امتحان کے سوالیہ پرچے کے لیک کے پیچھے لوگ ہیں انہیں سخت سزادی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے کی ہمت نہ کرسکے۔

پیپر لیک معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ ریاست میں تین پارٹیوں کی حکومت نوکریوں کی بھرتی کے نام پر طلباء کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔ یہ امتحانات نجی کمپنیوں کے ذریعے منعقد کیے جاتے ہیں۔ ریاست میں 4466 تلاٹھی عہدے کے لیے10 لاکھ 41 ہزار 713 امیدواروں نے درخواست دی تھی۔ ان امیدواروں سے امتحانی فیس کے نام پر تقریباً 1 ارب 4 کروڑ 17 لاکھ روپے وصول کیے گئے ہیں۔ لیکن ان امیدواروں کو ان کی پسند کے امتحانی مراکز نہ دیتے ہوئے دور کے اضلاع میں امتحانی مراکز دیے گئے، جس کی وجہ سے ہزاروں طلباء ان امتحانات میں شریک نہیں ہو سکے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی اس امتحان کا پیپر لیک ہو جانا، امتحان کی تیاری کرنے والے طلباء کی محنت پر پانی پھیرنے جیسا ہے۔

پٹولے نے کہا کہ ہم نے اسمبلی میں ثبوت کے ساتھ ریاست میں گزشتہ امتحانات کے پیپر لیک ہونے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اس وقت وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس نے کہا تھا کہ پیپر لیک ہونے کی خبر فرضی ہے اور ایسی خبریں شائع کرنے والے میڈیا ہاؤسز کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کی تحریک لانے کی بات کی تھی۔کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ یہ سرکاری بھرتی کا عمل ہے۔ یہ حکومت قصورواروں کو سزا دینے کا ارادہ بھی نہیں رکھتی ہے،اس کے برعکس پیپر لیک کی خبریں دینے والے میڈیا ہاؤسز کو وارننگ دینا قابل مذمت اور توہین آمیز ہے۔ پٹولے نے کہا کہ وزیر داخلہ فڑنویس کو چاہئے کہ وہ ریاست میں پارٹیوں کو توڑنے کا کام بند کریں اور پیپرلیک کرنے والوں کی کمر توڑنے کو ترجیح دیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھرتی کے عمل میں طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھیلنا بند کرے بصورت دیگر اگرطلباء سڑکوں پراتر آئے تو اس حکومت کوبہت مہنگا پڑے گا۔

کانگریس پارٹی MPSC طلباء کے ساتھ ہے

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ طلبہ نے مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ کرائے جانے والے امتحان کے حوالے سے کئی مطالبات کئے ہیں۔ اس میں اسٹیٹ سروس کے طرز پر ایک ہی کٹ آف کو لاگو کرنا، MPSC کے بنیادی ومشترکہ امتحانات کا انعقاد، ٹیکس اسسٹنٹ اور کمیشن کلرک کے عہدوں کے لیے مہارت کے امتحان میں GCC-TBC ٹائپنگ سرٹیفکیٹ کی مانند الفاظ کی حد پر عمل کرنا چاہیے، تاکہ سیٹیں خالی نہ رہیں نیز سروس کے لیے لی جانے والی 1000 روپے کی فیس کو کم کرنے اور ریاست اتراکھنڈ کی طرز پر پیپر لیک کے خلاف قانون بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ طلباء کے تمام مطالبات درست ہیں اور ہماری پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading