NCP Urdu News 16 Sep 25

اگر ریزرویشن کا مسئلہ حل کرنا ہے تو شرد پوار صاحب کے مشورے کے مطابق دہلی جانا ہوگا

ریاست میں فوری طور پر ’گیلا قحط‘ کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے

نوی ممبئی میں 5000 کروڑ کی زمین واپس لینے اور ایس آئی ٹی انکوائری کا مطالبہ

ممبئی: راشٹروادی کانگریسِ- شردچندر پوار کے صوبائی جنرل سکریٹری اور تمام سیل و شعبوں کے انچارج رکن اسمبلی روہت پوار نے کہا ہے کہ اگر ریاست میں ریزرویشن کا مسئلہ حل کرنا ہے تو شرد پوار صاحب کے مشورے کے مطابق دہلی جانا ہی واحد راستہ ہے۔ وہ ناسک میں نکالے گئے ’آکروش مورچہ‘ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے، جس میں کسانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس مورچہ میں قرض معافی، کسانوں کو معاوضہ، زیادہ بارش اور بے وقت بارش سے ہونے والے نقصانات کی تلافی جیسے مسائل اٹھائے گئے۔

روہت پوار نے کہا کہ اگست میں 14 لاکھ ہیکٹر فصل برباد ہوئی ہے۔ پہلے کسانوں کو فی ہیکٹر 13,500 روپے معاوضہ ملتا تھا جو اب گھٹ کر 8 ہزار رہ گیا ہے، جبکہ اس نقصان کے لیے کم از کم 50 ہزار روپے فی ہیکٹر دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ مطالبہ اس وقت کے ’رمی کھیلنے والے‘ وزیر زراعت کے سامنے بھی رکھا تھا، مگر کسانوں کو مسلسل دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ اس وقت کئی اضلاع میں بارش کی شدت کی وجہ سے گیلا قحط (اولا دُشکال) کا اعلان ضروری ہے اور حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر سرسری پنچنامہ کرکے کسانوں کو 50 ہزار روپے فی ہیکٹر معاوضہ دے۔

انہوں نے کہا کہ نوی ممبئی میں 5000 کروڑ روپے کی قیمتی زمین غیر قانونی طریقے سے ہتھیالی گئی ہے۔ یہ زمین حکومت کو واپس ملنی چاہئے اور اس پر 12.5 فیصد حق کے منتظر مقامی لوگوں کو ان کا حصہ دیا جانا چاہئے۔ پوار نے الزام لگایا کہ اس وقت کے سڈکو کے صدر اور موجودہ وزیر سنجے شِرساٹ نے صرف 48 گھنٹوں میں یہ زمین ایک نجی شخص کے حوالے کر دی۔ اس گھوٹالے کی ایس آئی ٹی کے ذریعے جانچ ہونی چاہئے اور قصور واروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔

روہت پوار نے کہا کہ حکومت کے ہی کئی اراکین اور وزراء مختلف برادریوں کے مطالبات کے لیے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو رہے ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت آخر کس کی ہے؟ ایک طرف وزارت کا مزہ لینا اور دوسری طرف عوام کے ساتھ احتجاج کرنا، یہ حکومت کے دوہرے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو خوش کرنے کے لیے حکومت نے الگ الگ مہا منڈل قائم کر دیے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مہا منڈل کو 5 کروڑ روپے سے زیادہ کا فنڈ نہیں دیا گیا۔ ریزرویشن کا سوال ریاستی سطح پر حل نہیں ہو سکتا۔ اگر سبھی برادریوں کے ریزرویشن کے مطالبات کو حل کرنا ہے تو، جیسا کہ شرد پوار صاحب نے کہا ہے، ہمیں دہلی جانا ہی پڑے گا۔

NCP-SP Urdu News 16 sep 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading