کولہاپور کی عوام نے بی جے پی کی فرقہ پرستانہ اور مذہبی سیاست کو منھ توڑ جواب دیا ہے

ممبئی: پونے کے ہنومان مندر میں آرتی اور مسلم بھائیوں کے لیے افطار پارٹی کے اہتمام کا حوصلہ اور قابلِ تقلید کام سرودھرم سمبھاؤ کی بنیاد پر صرف این سی پی ہی کرسکتی ہے۔ریاست کی عوام بی جے پی کی چالوں کو اب بخوبی سمجھ رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کولہاپور کی عوام نے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے امیدوار کو کراری شکست دے کر بی جے پی کی فرقہ پرستانہ اور مذہبی سیاست کو منھ توڑ جواب دیا ہے۔ یہ باتیں آج یہاں این سی پی کے ریاستی ترجمان مہیش تپاسے نے کہی ہیں۔

مہیش تاپسے نے مہاراشٹر کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بین مذہبی ہم آہنگی کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے بی جے پی کے ذریعے پالے پوسے جانے والے فرقہ پرستی کے زہریلے سانپ کے فن کو کچل دیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں کچھ لوگ ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں شہریوں کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہ ہونے دینے کا اپنا فرض پورا کرنا چاہیے۔مہاراشٹر ہمیشہ سے ایک ترقی پسند ریاست رہی ہے جو شاہو پھولے امبیڈکر اور ترقی پسند نظریات پر یقین رکھتی ہے۔ 2019 میں ریاست میں مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت کے قیام کے بعد، حکومت کو بدنام کرنے، حکومت کو گرانے اور ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی مسلسل کوششیں کی گئیں۔آج ہنومان جینتی کے موقع پر شہری بی جے پی جیسے راون کی نسل پرستانہ اور مذہبی لنکا کو جلانے کا عہد کریں۔ مہاراشٹر سماجی ہم آہنگی کی ریاست ہے۔

مہیش تپاسے نے کہا کہ ریاست میں وملک میں بی جے پی نے فرقہ پرستانہ ومذہبی منافرت کی سیاست کررہی ہے اور اس سیاست کو کولہاپور کی عوام نے زمیں بوس کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ریاستی صدر چندرکانت پاٹل نے کہا تھاکہ ووٹروں کو پے ٹی ایم کے ذریعے پیسے دیئے جارہے ہیں، جس کی ای ڈی کے ذریعے جانچ کی جائے گی۔ اس کے بعد کولہاپور کی عوام نے چندرکانت پاٹل وبی جے پی کو منھ توڑ جواب دیا ہے۔ تپاسے نے کہا کہ کولہاپور ضمنی انتخاب میں مہاوکاس اگھاڑی کے امیدوار کی کامیابی کانگریس، شیوسینا واین سی پی کی مشترکہ کامیابی ہے۔ مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے عوامی مفاد کے جو فیصلے کئے یہ ان کی کامیابی ہے۔ ہم کولہاپور کے عوام کے اس فیصلے پر ان کا شکریہ اداکرتے ہیں۔