ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی طرف سے دیے گئے اصول اور ہندوستانی آئین کی پیش کش کی اہمیت عوام تک پہنچائی جائے گی: سنیل تٹکڑے
ممبئی: بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی 134 ویں جینتی کے موقع پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) نے آج سے پورے مہاراشٹر میں ‘ہم بابا صاحب کے سچے پیروکار’ کے عنوان سے ایک خصوصی عوامی آگاہی مہم شروع کی ہے۔ یہ معلومات پارٹی کے ریاستی صدر و رکن پارلیمنٹ سنیل ٹٹکڑے نے دی۔
یہ مہم پارٹی کے قومی صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت دادا پوار اور ریاستی صدر سنیل تٹکڑے کی رہنمائی اور تصور کے تحت شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد ڈاکٹر امبیڈکر کی طرف سے دیے گئے انسانی حقوق، مساوات، انصاف اور بھائی چارے جیسے اہم اصولوں کو عوام تک پہنچانا، ہندوستانی آئین کی پیش کش کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کے خیالات کو مؤثر انداز میں نئی نسل تک پہنچانا ہے۔
اس مہم کے تحت، ہندوستانی آئین کی پیش کش اور اجیت دادا کی طرف سے ریاست کی عوام کے نام لکھا گیا پیغام ریاست کے مختلف اضلاع، شہروں، گاؤں اور اہم مقامات پر ایک ساتھ نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ ان میں اسکولز، کالجز، کتب خانوں، بدھ ویہارس، ڈاکٹر امبیڈکر کے مجسمے اور یادگاریں، بازار، اہم چوک، رہائشی سوسائٹیز اور عوامی مقامات شامل ہیں۔ آئین صرف ایک قانونی دستاویز نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستانی جموکری نظام کی بنیاد ہے اور اسے عوام تک سادہ زبان میں پہنچایا جا رہا ہے۔
تٹکڑے نے کہا کہ بابا صاحب کے خیالات کو نئی نسل تک پہنچانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ موجودہ دور میں سماج کے مختلف طبقوں کے درمیان ایک غیر مرئی دراڑ پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں سماج میں انسانی حقوق، مساوات، انصاف اور بھائی چارے جیسے بابا صاحب کے دیے گئے اصولوں کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت یہ مہم چلائی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری پارٹی، شیواجی، شاہو، پھلے اور امبیڈکر کے نظریات کی وراثت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ سماج کے ہر طبقے کو ترقی کے مساوی مواقع دینا نیشنلسٹ کانگریس کا بنیادی مقصد ہے۔ مہاراشٹر کی ترقی کے لیے یہ عظیم شخصیتیں ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہیں گی اور ہر شہری کو ان کی تعلیمات کی پیروی کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کا کردار صرف آئین تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں سماجی، اقتصادی اور تعلیمی غیر مساوات کے خلاف مضبوط آواز اٹھائی۔ پانی، زراعت، محنت کے قوانین، خواتین کے حقوق اور سیکولرازم جیسے مسائل پر ان کے خیالات آج بھی حکومت اور سماج کے لیے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے بہوجن سماج کی فلاح کے لیے اپنی زندگی بھر جدوجہد کی اور ہندوستانی جموکری کو ایک مضبوط ڈھانچہ فراہم کیا۔
