مودی کا کانگریس کے بارے میں بیان انتہائی مضحکہ خیز اور غیر اخلاقی
ممبئی: کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے وزیراعظم نریندر مودی سے براہ راست سوال کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کے سربراہ دلت، مسلم یا خواتین کو کب بنائیں گے؟ انہوں نے کہا ہے کہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ آئین کے معمار، بابا صاحب امبیڈکر اور ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے درمیان ہمیشہ مضبوط تعلقات تھے اور نہرو نے بابا صاحب کو عزت دی تھی۔ مگر آج تک آر ایس ایس نے کبھی کسی دلت، مسلم یا خاتون کو سربراہ کا عہدہ نہیں دیا۔
ہرش وردھن سپکال نے وزیراعظم مودی کے کانگریس کے بارے میں کیے گئے بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان انتہائی غیر منطقی اور مضحکہ خیز ہے۔ کانگریس کی درخشاں تاریخ اور اس کے ملک کے لیے کیے گئے بے شمار کاموں کو مودی جیسے افراد کبھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی حکومت میں تعلیم سے لے کر خلا تک ہر شعبے میں ترقی ہوئی تھی۔ مودی نے 11 سال اقتدار میں گزارے ہیں، تو انہیں یہ بتانا چاہیے کہ ان 11 سالوں میں انہوں نے ملک کے لیے کیا کیا؟ ان کے دور حکومت میں ہندو، مسلم، دلت اور او بی سی کے درمیان نفرتیں بڑھیں اور دراصل یہی مودی کی حصولیابی ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے مزید کہا کہ وزیراعظم مودی نے مسلم خواتین کے حقوق کے لیے جو اقدامات کیے، جیسے تین طلاق اور وقف بورڈ کے معاملات غیرہ تو یہ صرف ایک جھوٹا تاثر پیدا کرنے کی کوشش تھی۔ 11 سالوں میں مودی نے ایک بھی مسلم خاتون کو کسی بھی اہم عہدے پر فائز نہیں کیا۔ نہ ہی انہوں نے کسی مسلم امیدوار کو انتخابی میدان میں اتارا اور نہ ہی انہیں مرکزی وزیر، وزیر اعلیٰ یا ممبر آف پارلیمنٹ بنانے کی کوئی کوشش کی۔ ان کے دور میں مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف زیادتیاں بڑھ گئیں اور ان کے لیے کچھ بھی کرنے کی بجائے وہ خاموش رہے۔
سپکال نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں کسانوں کو ان کے زرعی پیداوار کی مناسب قیمتیں نہیں مل رہی، نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا اور ملک کے بیشتر لوگ مشکلات کے شکار ہیں۔ لیکن وزیراعظم مودی اپنی تعریف میں مگن ہیں۔ کرونا کے دوران جب پورا ملک مشکلات میں تھا، مودی نے تالیاں اور تھالیاں بجوائیں، مگر اب انہیں امریکہ کے ٹیرف پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ ان کے دور حکومت میں غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جبکہ امیر اور بھی امیر ہو گئے اور لاکھوں افراد ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مودی حکومت میں دلتوں کے خلاف مظالم میں اضافہ ہوا اور مودی نے ان واقعات کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ان کے مسلسل کانگریس پر حملے اور جھوٹ بولنا اس بات کا غماز ہیں کہ وہ حقیقت سے دور ہیں اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کانگریس پر الزام لگا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب سے بابا صاحب امبیڈکر کے بارے میں جو محبت کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہ سراسر جھوٹ ہے۔ وہ لوگ جو بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کو کبھی تسلیم نہیں کرتے تھے، اب ان کی شان میں قصیدے پڑھنے لگے ہیں۔ سپکال نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ آج مودی اور آر ایس ایس کے عہدے دار کھڑے ہیں، اور یہ سب ایک جھوٹے تاریخ کی تشکیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین ہمیں بتاتا ہے کہ ہر فرد کو عزت دینی چاہیے اور ہمیں سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے، یہی بھارت کی قدیم روایت ہے۔ یہ وہ اصول ہیں جن پر کانگریس کا ایمان ہے، اور وہ ہمیشہ اس پر عمل کرے گی۔