ممبئی:این سی پی کے ریاستی صدر اور سابق آبی وسائل کے وزیر جینت پاٹل نے آج ریاستی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو سابقہ عوامی کاموں کو مکمل کرنا چاہئے لیکن ان کاموں کو روکنا یا ملتوی کرنا ریاست کے زوال کی مانندہے۔جینت پاٹل نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ حکومت مہاراشٹر کے مختلف گرام پنچایتوں یا دیہاتوں کو
دیے جانے والے فنڈز کو روکنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس سے ان گاؤں کی ترقی رک جائے گی۔ اگر یہ حکومت صرف پیچھے ہی مڑ کر دیکھے گی تو کبھی آگے نہیں بڑھ پائے گی، اس لیے اس حکومت کو آگے پیچھے دیکھنے کے بجائے مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے چلنا چاہئے۔
جینت پاٹل نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال میں کئے گئے کاموں کے لئے ورک آرڈر دیا گیا یا نہیں دیا گیا،اس پر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے پچھلے کاموں کو مکمل کرنا چاہئے اور نئے کاموں کو بھی کرنا چاہئے۔مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت کے دوران ایم آئی ڈی سی میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کو بھی روک دیا گیا ہے، اس
کوروکے جانے کی تفتیش ہونی چاہیے کہ یہ کس بنیاد پر روکا گیا ہے اوراس کے پیچھے کیا مقصد ہے۔پاٹل نے کہا کہ اگر کسی سرمایہ کار کو پلاٹ دیا جاتا ہے تو وہ فوراً اپنا آگے کا کام شروع کر دیتا ہے اورریاست کے لوگوں کو ملازمت اورروزگار کے مواقع ملنے لگتے ہیں، لیکن اس کا احساس حکومت کو نہیں ہے۔
جینت پاٹل نے کہا کہ ایک جانب ویدانتافاکسکان جیسے پروجیکٹ کو ریاست سے باہر منتقل کر کے مہاراشٹر سے دشمنی اورنظریاتی دیوالیہ پن کا ثبوت دیا جارہا ہے اوردوسری جانب سابقہ حکومت نے جو فلاحی وعوامی کاموں کومنظوری دی تھی اس پر بھی روک لگائی جارہی ہے۔مہاراشٹر سے گجرات جانے والے پروجیکٹس کو نہ تو وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ
اور نہ ہی وزیر صنعت نے روکنے کی کوشش کی اور نہ ہی انل اگروال سے مل کر پروجیکٹ کو واپس لانے کی کوشش کی گئی۔ اب جن پروجیکٹس کے لیے پلاٹ دیے گئے ہیں ان پرروک لگائی جارہی ہے اوران کو معطل کیا جارہا ہے۔یہ ریاست کے ساتھ صنعتکاروں کے لیے بھی بڑا نقصان ہے۔ اس لیے ریاستی حکومت کو اس طرح کا معاندانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔