نہایت کم کرائے پیر دیے گئے وقف کی املاک میں نواب ملک نے اضافہ کردیا

ممبئی میں وقف کے ایک املاک کے کرائے میں ڈھائی ہزار سے ڈھائی لاکھ تک کا اضافہ

ممبئی: وقف بورڈ کی اراضی واملاک کو پرائیویٹ یا عوامی اداروں کو نہایت کم کرائے پر دینے کے معاملات پر روک لگاتے ہوئے ریاستی اقلیتی فلاح وبہبود کی وزارت نے اہم اقدام کیا ہے۔ ممبئی میں وقف بورڈ کی ایک پراپرٹی کے لیے نظرثانی شدہ لیز پردستخط کرتے ہوئے وزیراوقاف نواب ملک نے اس کا ماہانہ کرایہ جوصرف ڈھائی ہزار روپئے تھا، اسے ڈھائی ہزار روپئے کردیا ہے۔ نواب ملک کے مطابق اس سے ٹرسٹ کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوگا اور اس رقم کو مسلم بچوں کی تعلیم سمیت مختلف سماجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا نیز اس طرح کی نظرثانی شدہ لیز معاہدے کی منظوری کے لیے حکومتی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 2014میں وقف پراپرٹیز لیز رولس بننے کے بعد پہ پہلا واقعہ ہے کہ جس میں لیز کی رقم جو نہایت معمولی تھی، اس میں مارکیٹ کے ریٹ سے اضافہ کیا گیا ہے۔نواب ملک کے مطابق ریاست میں وقف بورڈ کے یہاں رجسٹرڈ تمام اداروں وٹرسٹوں کو اپنی املاک واراضی کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے آمدنی میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ اس آمدنی سے مسلم طلباء کی تعلیم،ان کے لیے اسکالرشپ اسکیموں جیسی مفید سرگرمیاں انجام دی جاسکیں۔ اس ضمن میں وقف بورڈ کے یہاں رجسٹرڈ ادارے اگر اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے وقف بورڈ کے پاس کوئی تجویز پیش کرتے ہیں تو اسے حکومت کی جانب سے منظوری دی جائے گی۔

وقف بورڈ کے تحت رجسٹرڈ ممبئی کے روگے چریٹی ٹرسٹ نمبر ۱ کی بھولیشور ڈویژن میں میں روپاواڑی،ٹھاکوردوار روڈ کی املاک انڈین آئل کمپنی کو کرائے پر دی گئی ہے۔ 1934سے انڈین آئل (موجودہ برماپٹرولیم کمپنی) کے ساتھ لیز معاہدہ کیاگیا۔ اس معاہدے کی مدت میں وقتا فوقتا اضافہ کیا گیا۔1978سے 1983کے درمیان اس کا کرایہ800روپئے اور1983سے1988کے درمیان ایک ہزار 750روپئے طئے کیا گیا تھا۔ اس کے بعد کچھ وجوہات کے بناء پر عدالتی معاملہ درپیش آگیا، لیکن اب عدالت کا اس ضمن میں فیصلہ اور دیگر وقف قوانین کے مطابق انڈین آئیل نامی سرکاری کمپنی فی ماہ دو لاکھ روپئے (سالانہ 24لاکھ روپئے) نیز اس میں سالانہ ۵فیصد اضافے کے ساتھ 15سال کے لیے (یکم جنوری 2015سے 31دسمبر2029 تک) لیز معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس حساب سے 2020سے متعلقہ ٹرسٹ کو ماہانہ2لاکھ 55ہزار روپئے کرایہ موصول ہوگا۔ اس کے علاوہ متعلقہ ٹرسٹ کو گزشتہ عرصے کا بقایا جات بھی حاصل ہوگا۔ اس ضمن میں وقف بورڈ کے وزیر نواب ملک نے حکومتی فیصلے کے مطابق منظوری دیدی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading