بیڑ ضلع میں 11 سرکاری ہاسٹلوں کی تعمیر کے لیے 159 کروڑ 36 لاکھ 60 ہزار روپے کے فنڈ کی منظوری

نائب وزیر اعلیٰ اور بیڈ ضلع کی سرپرست وزیر محترمہ سنیترہ اجیت دادا پوار کی اطلاع

ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے نقل مکانی کرنے والے گنے کاٹنے والے مزدوروں کے بچوں کے لیے قائم کیے گئے سنت بھگوان بابا سرکاری ہاسٹل منصوبہ کے تحت بیڑ ضلع میں 11 سرکاری ہاسٹلوں کی تعمیر کے لیے 159 کروڑ 36 لاکھ 60 ہزار روپے کے تعمیراتی فنڈ کو انتظامی منظوری دے دی ہے۔ یہ معلومات نائب وزیر اعلیٰ اور بیڑ ضلع کی سرپرست وزیر محترمہ سنیترہ اجیت پوار نے دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گنے کے کاٹنے والے مزدوروں کے بچوں میں تعلیم کے تئیں دلچسپی بڑھانے اور ان کی آئندہ تعلیمی راہ کو ہموار بنانے کے مقصد سے ریاستی حکومت نے ’سنت بھگوان بابا سرکاری ہاسٹل منصوبہ‘ شروع کیا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت ریاست کے اُن 41 تعلقوں میں، جہاں گنے کے مزدوروں کی تعداد زیادہ ہے، لڑکوں کے لیے 41 اور لڑکیوں کے لیے 41، اس طرح مجموعی طور پر 82 سرکاری ہاسٹل قائم کرنے کو منظوری دی گئی ہے۔ ہر ہاسٹل کی گنجائش 100 طلبہ پر مشتمل ہوگی۔ پہلے مرحلے میں لڑکوں کے لیے 10 اور لڑکیوں کے لیے 10، اس طرح کل 20 سرکاری ہاسٹل شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ ان 20 ہاسٹلوں کے علاوہ بقیہ 62 سرکاری ہاسٹل شروع کرنے کی بھی منظوری دی جا چکی ہے۔

محترمہ سنیترہ اجیت پوار کے مطابق بیڑ ضلع کے ہر تعلقہ میں دو ہاسٹل، یعنی ایک لڑکوں اور ایک لڑکیوں کے لیے، اس طرح مجموعی طور پر 22 سرکاری ہاسٹل قائم کرنے کو سماجی انصاف محکمہ کے حکومتی فیصلے کے ذریعے پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنے کے مزدوروں کے بچوں کو تعلیم کے مرکزی دھارے میں لانا اور انہیں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت دادا پوار کا خواب تھا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے مسلسل کوششیں کیں، ہاسٹلوں کی تعمیر کے لیے پیروی کی اور بطور سرپرست وزیر کئی مقامات پر زمین بھی طے کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سارتھی ادارے کی جانب سے مراٹھا سماج کے طلبہ کے لیے ڈویژنل ہیڈکوارٹر پر تعمیر کیے جانے والے ہاسٹلوں کی طرز پر بیڑ ضلع میں گنے کے مزدوروں کے بچوں کے لیے معیاری اور مضبوط عمارتیں تعمیر کرنے کی ہدایات سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت دادا پوار نے وقتاً فوقتاً محکمہ تعمیرات عامہ کے چیف انجینئر کو دی تھیں۔

حکومت کی جانب سے یہ تمام سرکاری ہاسٹل سرکاری عمارتوں میں ہی شروع کیے جانے ہیں۔ فی الحال صرف تین مقامات پر سرکاری زمین دستیاب ہوئی ہے جہاں تعمیراتی کام پیش رفت پر ہے۔ باقی ماندہ 19 ہاسٹلوں میں سے 11 مقامات پر زمین دستیاب ہونے کے بعد ان کے تعمیراتی تخمینوں کو آج انتظامی منظوری دے دی گئی ہے اور اس سلسلے میں سماجی انصاف محکمہ کی جانب سے حکومتی حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ ان منظور شدہ ہاسٹلوں میں پاٹودا، کیج، پرلی، گیورائی اور ماجلگاؤں میں دو دو ہاسٹل (ایک لڑکوں اور ایک لڑکیوں کے لیے) جبکہ بیڑ شہر میں لڑکیوں کے لیے ایک سرکاری ہاسٹل شامل ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے نقل مکانی کرنے والے گنے کے مزدوروں کے بچوں کو تعلیمی سہولتیں میسر آئیں گی اور ان کی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

NCP Urdu News 12 Feb. 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading