خواتین سڑکوں پر اتریں، مقدمات درج ہوتے ہیں تو ہونے دیں

ریزرویشن کی وجہ سے ہی میں نے فوج کے شعبہ دفاع میں خواتین کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیاتھا

منی پور جیسے واقعات ہونے پر خواتین کو سڑکوں پر اترنا چاہئے

این سی پی کے شعبہ خواتین کی جانب سے منعقدہ جلسے سے شردپوار کا خطاب

ممبئی:این سی پی کے قومی سربراہ شردپوار نے خواتین سے ظلم وناانصافی کے خلاف سڑکوں پر اترنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ سماج میں کوئی خرابی نظر آئے تو سڑکوں پر اتریں، حکومت مقدمات درج کرے گی، پھر بھی گھبرائیں نہیں۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، ہم ان مقدمات کو واپس لیتے ہیں۔

مہاراشٹر پردیش این سی پی شعبہئ خواتین کی جانب سے یشونت راؤ چوان پرتسٹھان سنٹر میں خواتین کارکنوں کے عہدیداروں کی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں این سی پی کی قومی ورکنگ صدر سپریاسولے، ریاستی صدر جینت راؤ پاٹل، پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری جتیندر اوہاڈ، سابق وزیر اور ایم ایل اے انیل دیشمکھ، سابق وزیر اور ایم ایل اے راجیش ٹوپے، شعبہ خواتین کی ریاستی صدر روہنی کھڈسے، ترجمان ودھیا چوہان موجود تھیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شردپوار نے کہا کہ آج ہمارے سامنے خواتین کے ریزرویشن، مہنگائی وبیروزگاری جیسے سنگین مسائل ہیں۔ ہم نے خواتین کے ریزرویشن کا فیصلہ کیا تھا، ریزرویشن کے فیصلے نے واضح کر دیا کہ خواتین مردوں سے کمتر نہیں ہیں۔ اس لیے ہم نے محکمہ دفاع میں ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا، اس وقت بہت سے لوگوں کی طرف سے مخالفت ہوئی تھی۔ لیکن میں نے خود اس وقت وزیر دفاع کی حیثیت سے یہ فیصلہ لیا تھا اور اب آپ فوج میں خواتین کو بھی دیکھ رہے ہیں۔جناب شردپوار نے کہا کہ ملک کے حالات اس قدر سنگین ہیں کہ منی پور جیسے واقعات سامنے آرہے ہیں، اس لیے ہمیں چوکنا رہنا چاہیے۔ اگر کہیں ایسا ہوتا ہے تو ہماری بہنوں کو اس کے خلاف سڑکوں پر اترناچاہیے۔بہت ہوگا تو اس کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے لیکن مقدمات سے نہیں ڈرنا ہے۔حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور پھرہم وہ مقدمات واپس لیتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے کنٹریکٹ کی بنیاد پر دی جانے والی ملازمتوں پر شردپوار نے کہا کہ سرکاری ملازمت کی وجہ سے خاندان میں سکون رہتاہے، لیکن کنٹریکٹ کی بنیاد پر تقرری پر کوئی تحفظ نہیں رہتا ہے۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ اس میں خواتین کو موقع نہیں ملے گا۔ اس لیے آپ کوسڑکوں پر اترنا پڑے گا۔ شردپوار نے اس موقع پر غائب ہونے والی خواتین کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یکم جنوری سے یکم مئی تک 19/ہزار 553خواتین غائب ہوئی ہیں، ان میں 1453بچیاں 18/سال سے کم ہیں۔ یہ معلومات اسمبلی کے مانسون اجلاس میں انیل دیشمکھ کو دیا گیا تھا۔جناب شردپوار نے کہا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کو اسکول گود دیے جارہے ہیں۔ اب جو کمپنی جواسکول گود لے گی وہ اس کا اپنی پالیسی کے مطابق استعمال بھی کرے گی۔ اس کی تازہ ترین مثال ناسک ضلع کے ایک اسکول کی ہے جسے شراب کی ایک کمپنی نے گود لیا اور اس کمپنی نے اسکول کے گراؤنڈ میں گوتمی پاٹل کے پروگرام کا انعقاد کیا جو نہایت افسوسناک ہے۔

اس پروگرام سے این سی پی کی قومی کارگزار صدرسپریاسولے نے کہا کہ کنٹریکٹ کی بنیاد پرجو بھرتیاں کی جارہی ہیں انہیں بند کیا جانا چاہئے۔ اس کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑے گا۔ کیونکہ کنٹریکٹ کی بنیاد پرہوئی بھرتیوں میں ریزرویشن نہیں رہتا ہے اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کرکے اس حکومت کو ریزرویشن ختم کرنا ہے۔ لیکن این سی پی ایسا نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جواسکول بند کیے جارہے ہیں انہیں دوبارہ شروع کیا جانا چاہئے نیز خواتین کے تحفظ کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔

ریاستی این سی پی کے صدر جینت پاٹل نے اس موقع پر کہا کہ شردپوار صاحب اپنی پارٹی کو بچانے کے لیے مرکزی الیکشن کمیشن کے د فتر میں جاکر بیٹھتے ہیں۔ اس سے کارکنان کو یہ اندازہ لگانا آسان ہوگا کہ کیا چل رہا ہے۔ اس لیے اب واپسی کا راستہ ختم کردیا گیا ہے۔ ہمیں لڑنا ہے،مہاراشٹر میں شردپوار کا کرشمہ، ان کی طاقت اور عوام کے دلوں میں شردپوار کے تئیں عزت واحترام یہی ہماری طاقت ہے اور اسی طاقت کے سہارے ہمیں ایک بار پھرکامیاب ہونا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading