ناندیڑ: دو دیسی پستول برآمد، تین افراد گرفتار

ناندیڑ، 7 جولائی:(ورق تازہ نیوز) ناندیڑ پولیس کی مقامی کرائم برانچ (ایل سی بی) نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے دو دیسی پستول برآمد کر لیے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلابھ روہن کی ہدایت پر ناندیڑ شہر میں کومبنگ آپریشن چلایا جا رہا ہے، جس کے تحت جرائم پیشہ عناصر اور سنگین مقدمات میں ملوث افراد کی جانچ کی جا رہی ہے۔اسی دوران 7 جولائی کو مقامی کرائم برانچ کو خفیہ اطلاع ملی کہ دو افراد نرسنگھ چوک، نیلا روڈ پر غیر قانونی پستول فروخت کرنے کی نیت سے موجود ہیں۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے پنچ گواہوں کی موجودگی میں چھاپہ مارا اور دونوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔

گرفتار شدگان کی شناخت شیوراج رنجیت دلوے (31) ، ساکن کرشن نگر، ڈی مارٹ کے قریب، ناندیڑ، اورسرمکھ سنگھ جگت سنگھ رامگڑیا (39) ساکن شکار گھاٹ، تعلقہ مدکھیڑ، کے طور پر ہوئی۔ تلاشی کے دوران دونوں کے قبضے سے دو دیسی پستول برآمد کیے گئے۔ابتدائی پوچھ گچھ میں دونوں ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے یہ پستول **بالاجی بابن سانگلے (18) ، ساکن وسرنی، ناندیڑ، سے خریدے تھے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بالاجی سانگلے کو بھی گرفتار کر لیا۔مزید تفتیش میں بالاجی نے بتایا کہ اس نے یہ پستول *رتن سنگھ بھاٹیا*، ساکن رامن گھاٹ، ریاست مدھیہ پردیش، سے حاصل کیے تھے، جو اس وقت فرار بتایا جا رہا ہے۔ پولیس فرار ملزم کی تلاش میں مصروف ہے۔

گرفتار تینوں ملزمان اور ضبط شدہ اسلحہ کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ہوائی اڈہ پولیس اسٹیشن، ناندیڑ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات جاری ہیں۔یہ کارروائی پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلابھ روہن، ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ ارچنا پاٹل، ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ سورج گرو، مقامی کرائم برانچ کے پولیس انسپکٹر اتل بھوسلے کی نگرانی میں سب انسپکٹر مہیش کورے اور ان کی ٹیم نے انجام دی۔اس موقع پر ناندیڑ ضلع پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس غیر قانونی اسلحہ ہونے یا اس کے استعمال کی اطلاع ہو تو فوراً قریبی پولیس اسٹیشن یا پولیس کنٹرول روم کو اطلاع دیں۔ قانون و نظم کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading